تلنگانہ حکومت کی ایم ایس ایم ای پالیسی جاری

,

   

نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ، صنعتوں کے قیام پر توجہ مرکوز، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب

حیدرآباد۔18۔ستمبر۔(سیاست نیوز) ملک میں کوئی بھی حکومت پالیسی اور منصوبہ کے بغیر کامیاب حکمرانی کو یقینی نہیں بنا سکتی اسی لئے تلنگانہ میں کانگریس حکومت نے چھوٹی اور متوسط صنعتوں کے لئے نئی MSME پالیسی تیار کی ہے جو کہ تلنگانہ میں بھاری سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گی ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج ریاست میں MSME کی نئی پالیسی 2024 جاری کرنے کے بعد اپنے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ریاست میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے چھوٹے اورمتوسط صنعتی اداروں کے لئے اس نئی پالیسی کو تیار کرتے ہوئے روشناس کروایا گیا ہے جو کہ تلنگانہ کے تمام مواضعات میں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے علاوہ صنعتوں کے قیام کے ذریعہ تجارتی فروغ کی راہ ہموار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں چین کے بعد اگر سرمایہ کاری کے لئے سب سے بہتر کوئی جگہ ہے تووہ ریاست تلنگانہ ہے جہاں سرمایہ کاری کے بہتر فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت نے نئی صنعتی پالیسی کے ذریعہ ان تمام صنعتوں کو جو مختلف وجوہات کی بناء پر نقصان کا سامنا کررہی تھیں ان کے احیاء اور انہیں منافع بخش بنانے کے اقدامات کئے ہیں۔انہوں نے اس پروگرام کے دوران نرسمہا راؤ کی معاشی پالیسیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہو ںنے اپنے دور میں ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے کے لئے دوراندیشی کے ساتھ کام کیا تھا اور منصوبہ بندی کی تھی جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ۔ چیف منسٹر نے نئی صنعتی پالیسی کے متعلق کہا کہ پیشرو حکومت نے جو پالیسیاں تیار کی تھیں انہیں برقرار رکھتے ہوئے نئی پالیسی کو روشناس کروایا گیا ہے جو کہ صنعتی اداروں کی ترقی کی ضامن ثابت ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت تلنگانہ نے عالمی سطح پر صنعتی اداروں کو مستحکم بنانے اور ان سے مقابلہ کے لئے نئی پالیسی تیار کی ہے اور ریاستی وزیر صنعت ڈی سریدھر بابو نے اس پالیسی کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو کہ قابل ستائش ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت ایک مسلسل عمل ہے اور جب ترقی کی بات ہوتی ہے تو کوئی سیاست نہیں ہوتی اور نہ ہی ہونی چاہئے اسی لئے حکومت نے ان پالیسیوںکو برقرار رکھتے ہوئے انہیں مزید بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد سیاست سے بالاتر ہوکر پیشرو حکومت کے اچھے کاموں اور پروگراموں کو جاری رکھا ہوا ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ سابق حکومت کے اچھے کاموں پر وہ اوچھی سیاست یا اعتراض کرنے کے قائل نہیں ہیں اسی لئے عوامی فلاح و بہبود اور تلنگانہ کی ترقی کے ان پروگرامس کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کرے گی۔ انہو ںنے ریاست میں صنعتی ترقی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے اور اس یونیورسٹی کے ذریعہ صنعتی اداروں کو درکار ہنرمند افراد فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور صنعتکار مشترکہ طور پر 300تا500کروڑ کے کارپس فنڈ کے قیام کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ یونیورسٹی کے اخراجات کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے اسے حتمی شکل دے دی گئی ہے۔تلنگانہ کی نئی MSMEپالیسی کی اجرائی کی شلپا کلا ویدیکا میں منعقدہ تقریب میں ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارک‘ مسٹر ڈی سریدھر بابوریاستی وزیر صنعت و انفارمیشن ٹکنالوجی ‘ مسٹر جئیش رنجن کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ چیف منسٹر نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ریاستی حکومت نے تلنگانہ کی 65 آئی ٹی آئی کو ترقی دینے کے اقدامات کا آغاز کیا ہے اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کی اس منصوبہ بندی کا مقصد نوجوانوں کو روزگار سے مربوط کرتے ہوئے انہیں درکار صنعتوں میں خدمات کی فراہمی کے لئے آمادہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے سرکاری اسکولوں کے انتظام اماں آدرش اسکولوں کے ذریعہ خواتین کے ہاتھ میں اسکولوں کے نظم کو حوالہ کیا ہے۔ انہو ںنے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو دیئے جانے والے یونیفارمس کی سلائی کی ذمہ داری خواتین کو دیئے جانے کے علاوہ ان کے لئے ادا کئے جانے والے 25روپئے کو بڑھاکر 75روپئے کرنے کے فیصلہ کا تذکرہ کیا اورکہا کہ ریاستی حکومت خواتین کو خود مکتفی بنانے کے اقدامات میں کامیاب ہورہی ہے۔انہو ںنے کہا کہ تلنگانہ میں عوامی حکمرانی کی بحالی کے بعد حکومت کی جانب سے تمام گوشوں سے تجاویزاور مشوروں کو قبول کیا جا رہاہے ۔ حکومت نے شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں نئی ’فیوچرسٹی ‘ کے قیام کا منصوبہ تیار کیا ہے جو کہ عصری سہولتوں سے ہم آہنگ شہر ہوگا۔ چیف منسٹر نے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے منصوبہ کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ اس منصوبہ کے آغاز سے بھی ہنرمند نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوگا۔ انہو ںنے کہا کہ ریاست میں کسانوں کی ترقی اور انہیں زرعی شعبہ سے جوڑے رکھنے کے لئے حکومت نے متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں ان کے قرض معافی کی اسکیم بھی شامل ہے۔3