حیدرآباد۔23۔مئی(سیاست نیوز) تلنگانہ میں عہدیداروں کو اس سال گرمائی تعطیلات کے دوران طویل رخصت پر جانے کا موقع نہیں مل پایا ہے اور عہدیدار حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کے مطابق ریاست کی آمدنی میں اضافہ کے امور کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کی معاشی ابتری کی صورتحال کے سبب ریاست کے سرکردہ عہدیداروں کو گرمائی تعطیلات گذارنے کا موقع نہیں مل رہا ہے کیونکہ وہ ریاستی حکومت کے معاشی ابتر صورتحال کو سدھارنے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں اور موٹر وہیکل ٹیکس میں کئے جانے والے اضافہ کو بھی اسی کا حصہ قرار دیا جا رہاہے۔ گرمائی تعطیلات کے باوجود اپنے دفاتر میں موجود عہدیدارو ںکا کہناہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے قرض کی حد میں اضافہ سے روکنے کے اقدامات اور بانڈس کے ہراج کے ذریعہ آمدنی کے حصول سے روکے جانے کے بعد حالات مزید ابتر ہونے کا اندیشہ ہے اسی لئے ریاستی حکومت کی جانب سے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریاست کی آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ حکومت کی جانب سے جاریہ ماہ کے دوران موٹر وہیکل ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ ٹیکس میں اضافہ کے علاوہ دو نئے ٹیکس عائد کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں اس کے علاوہ محکمہ آبکاری کی جانب سے ریاست میں شراب کی قیمتوں میں اضافہ کا بھی فیصلہ کیاگیا ہے اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے دیگر ذرائع آمدنی کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے ۔حکومت کی جانب سے گذشتہ 8برسوں کے دوران ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضیات کو ہراج کے ذریعہ فروخت کرنے کے اقدامات کئے جاچکے ہیں اور رجسٹریشن و اسٹامپ ڈیوٹی میں بھی اضافہ کے احکامات جاری کئے گئے ہیں لیکن عہدیداروں پر اس بات کا دباؤ ڈالا جا رہاہے کہ وہ مزید ذرائع آمدنی کو یقینی بنانے کا منصوبہ حکومت کو پیش کرے اور منظوری حاصل کرتے ہوئے فوری احکامات کی اجرائی عمل میں لائے تاکہ تلنگانہ کی آمدنی و اخراجات میں پیدا ہونے والے فرق کو دور کیا جاسکے۔عہدیدار جو اس منصوبہ بندی میں مصروف ہیں ان کا کہناہے کہ حکومت کے پاس اب بینکوں اور مالیاتی اداروں سے رجوع ہوتے ہوئے قرض حاصل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔م