تلنگانہ سکریٹریٹ کی تعمیر پر نیشنل گرین ٹریبونل میں سماعت

   

مرکزی وزارت ماحولیات پر ٹریبونل کی برہمی، حلفنامہ داخل نہ کرنے پر 10 ہزار روپئے جرمانہ

حیدرآباد۔/22فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر پر نیشنل گرین ٹریبونل میں آج سماعت کی گئی۔ ٹریبونل نے مرکزی وزارت ماحولیات پر برہمی کا اظہار کیا۔ دو برسوں سے وزارت ماحولیات نے جوابی حلفنامہ داخل نہیں کیا جس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹریبونل نے 10 ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا ہے۔ مرکزی وزارت کو اندرون 15 دن حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ٹریبونل نے کہا کہ اگر دو ہفتوں میں حلفنامہ داخل نہیں کیا گیا تو جرمانہ کی رقم متعلقہ عہدیداروں سے وصول کی جائے گی۔ گرین ٹریبونل نے کہا کہ اگر سماعت کے سلسلہ میں وزارت ماحولیات کا رویہ اسی طرح برقرار رہا تو محکمہ کے سکریٹری کو شخصی طور پر ٹریبونل میں طلب کیا جائے گا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے ٹریبونل میں درخواست داخل کرتے ہوئے شکایت کی کہ ماحولیاتی منظوری کے بغیر ہی نیا سکریٹریٹ تعمیر کیا جارہا ہے۔ ریونت ریڈی کے وکیل شراون کمار نے ٹریبونل کو بتایا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اس معاملہ میں وزارت ماحولیات کے رویہ کی مذمت کی ہے۔ شراون کمار نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ہائی کورٹ کو غلط معلومات فراہم کی ہیں۔ وکیل نے کہا کہ نیا سکریٹریٹ چونکہ حسین ساگر کے دامن میں ہے لہذا تعمیر کیلئے ماحولیاتی منظوری ضروری ہے۔ ٹریبونل نے سماعت کے بعد 15 مارچ کو آئندہ پیشی مقرر کی ہے۔ ر