کیا 2009 کی تاریخ دہرائی جائے گی؟ نئی پارٹی ٹی آر ایس سے کس کو فائدہ اور کس کو نقصان، سیاسی مبصرین کی رائے مختلف
حیدرآباد ۔27۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاست میں کویتا کی قائم کردہ تلنگانہ راشٹرا سینا (ٹی آر ایس) کس حد تک کامیاب رہے گی ، اس بارے میں سیاسی مبصرین کی مختلف رائے ہے لیکن اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بھلے ہی ٹی آر ایس اقتدار حاصل نہ کرسکے لیکن وہ کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت بی آر ایس کو نقصان پہنچاتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے ۔ 2009 میں اس طرح میگا اسٹار چرنجیوی کی پولیٹیکل انٹری سے آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کو فائدہ ہوا تھا ، ٹھیک اسی طرح مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر کویتا ٹی آر ایس کے نام پر علحدہ تلنگانہ کے کٹر حامیوں کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو اس سے تلنگانہ جذبہ کے ووٹ منقسم ہوجائیں گے جس کا راست طور پر کانگریس کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ کویتا نے پارٹی کا نام اپنے والد کی سابق پارٹی کے مخفف TRS کی طرز پر رکھا ہے جس سے رائے دہندوں اور عام آدمی میں الجھن پیدا ہونا یقینی ہے۔ تلنگانہ جاگرتی کے نام پر ریاست بھر میں مہم چلانے کے بعد کویتا نے اچانک نئے نام سے تلنگانہ راشٹرا سینا کے قیام کا اعلان کردیا ۔ انہیں آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت کی امید ہے لیکن سیاسی مبصرین کی رائے اس بارے میں مختلف ہے۔ بعض گوشوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ کویتا کو کانگریس بالخصوص چیف منسٹر ریونت ریڈی کی درپردہ تائید حاصل ہے جبکہ بی آر ایس سے علحدگی کے بعد کویتا نے حکومت کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اس طرح کے اندیشوں کو غلط ثابت کردیا۔ کویتا کی جانب سے ٹی آر ایس کے قیام کی تیاریوں کے دوران بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا تھا کہ پارٹی کا نام دوبارہ ٹی آر ایس رکھنے پر غور کیا جارہا ہے ۔ یہ معاملہ زیر غور ہی تھا کہ کویتا نے ٹی آر ایس کا اعلان کردیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ قومی سطح پر سیاست کے لئے کے سی آر نے جس دن ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کیا، اس وقت سے ہی تلنگانہ میں پارٹی کی مقبولیت کم ہوگئی اور 2023 اسمبلی چناؤ میں شکست کی اہم وجہ نام کی تبدیلی بتائی جاتی ہے۔ کویتا نے حقیقی ٹی آر ایس کا نام رکھتے ہوئے دراصل اپنے والد کی سیاسی وراثت کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ پارٹی میں ناراض سرگرمیوں اور سینئر قائدین کے خلاف الزام تراشی پر نظام آباد کی سابق رکن پارلیمنٹ کویتا کو بی آر ایس سے معطل کیا گیا جس کے بعد سے انہوں نے علحدہ سیاسی اننگز کے آغاز کی تیاریوں کو تیز کردیا تھا۔ بی آر ایس قائدین کا دعویٰ ہے کہ ٹی آر ایس کے قیام سے پارٹی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن نام میں یکسانیت سے تلنگانہ جذبہ کی تائید ضرور حاصل ہوگی۔ کانگریس اور بی جے پی کا ماننا ہے کہ ٹی آر ایس کے قیام سے ایک نئی سیاسی پارٹی کا اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن یہ پارٹی انتخابی سیاست پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ واضح رہے کہ میگا اسٹار چرنجیوی نے متحدہ آندھراپردیش میں 2008 میں پرجا راجیم پارٹی قائم کی اور 2009 اسمبلی انتخابات میں انہیں 18 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ تلگو دیشم کو 92 اور بی آر ایس کو 10 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ آندھرا اور رائلسیما میں چرنجیوی کی جانب سے شدت کے ساتھ انتخابی مہم کے نتیجہ میں مخالف حکومت ووٹ تقسیم ہوگئے جس کے نتیجہ میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی 156 نشستوں کے ساتھ دوبارہ برسر اقتدار آئے تھے۔ اب جبکہ تلنگانہ میں اسمبلی نشستوں کی تعداد 119 ہے اور 2023 میں بی آر ایس کو محض معمولی ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ، ایسے میں اگر کویتا کی ٹی آر ایس پارٹی مجموعی طور پر 4 تا 5 فیصد ووٹ بھی حاصل کرتی ہے تو اس سے راست طور پر نقصان بی آر ایس اور فائدہ کانگریس کو ہوگا۔1/k