ریاست کو منشیات سے پاک بنانا پولیس کا مقصد ، ڈی جی پی نے سالانہ رپورٹ جاری کی
حیدرآباد 29 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کو منشیات سے پاک کرنا پولیس کا اصل مقصد ہے۔ منشیات اور سائبر جرائم کے خلاف پولیس کامیابی حاصل کررہی ہے۔ 2024 ء کے دوران تلنگانہ میں 9.87% جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر جیتندر نے پولیس ہیڈکوارٹرس میں سالانہ رپورٹ جاری کی اور دعویٰ کیاکہ بحیثیت مجموعی 2024 ء پرامن رہا۔ تلنگانہ میں فرقہ وارانہ حالات قابو میں ہیں۔ 2024 ء میں 2 لاکھ سے زائد مقدمات درج کئے گئے۔ جاریہ سال 33618 سائبر جرائم، 1525 اغواء، 703 چوری، 856 ڈکیتی، 2945 قتل اور عصمت ریزی کے واقعات درج کئے گئے۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ عصمت ریزی و دیگر جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ عصمت ریزی کے معاملات میں 90 فیصد سے زائد جان پہچان کے افراد قصوروار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ڈائیل 100 اور 112 کے تحت 16,92,173 فون پر شکایتیں حاصل ہوئی ہیں اور نئے قوانین کے تحت 85,190 مقدمات درج کئے گئے۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ ملک میں پہلی بار سائبر جرائم کے تحت لوٹی گئی 180 کروڑ روپئے کی رقم سائبر دھوکہ بازوں سے حاصل کی گئی۔ ریاست بھر میں 142.95 کروڑ کے منشیات کو ضبط کیا گیا اور 4,682 افراد گرفتار کئے گئے۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ سی آئی ای آر پورٹل کے تحت ریاست بھر میں 75 ہزار موبائیل فونس کو حاصل کیا گیا اور ریاست میں خواتین کے تحفظ کیلئے ٹی سیف رائج کیا گیا اور ریاست بھر میں 27 بھروسہ سنٹرس کام کررہے ہیں۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ قانون کے تحت مجرمین کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کے اقدامات کئے گئے اور 10 مقدمات میں 55 کروڑ سے زائد کی جائیداد کو ضبط کیا گیا۔ ڈی جی پی جیتندر نے بتایا کہ آفات سماوی سے نمٹنے کے لئے ایس ڈی آر ایف اور فائر ڈپارٹمنٹ کے مشترکہ اقدام سے خصوصی شعبہ تیار کیا جارہا ہے ۔ایک ہزار اسپیشل پولیس اور 600 فائر ڈپارٹمنٹ کے عملہ کو خصوصی تربیت دی جارہی ہے ۔ مجرمین کو سزا دلانے میں 36% اضافہ ہوا ہے جن میں 35 روڈی شیٹرس کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ڈی جی پی نے کہاکہ منشیات کے ساتھ سائبر جرائم ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے خصوصی اقدامات جاری ہیں۔ ماؤسٹ تشدد قابو میں ہے۔ انھوں نے فون ٹیاپنگ معاملہ پر کہاکہ اصل ملزم پربھاکر راؤ کو ملک لانے کیلئے انٹرپول کی مدد لی جارہی ہے۔ جس کے لئے وقت درکار ہوگا۔ انھوں نے پولیس ملازمین کی خودکشی کے واقعات پر کہاکہ نجی مسائل کے سبب یہ واقعات پیش آرہے ہیں۔ کام کا کوئی دباؤ یا ہراسانی نہیں ہے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈی جی پی لاء اینڈ آرڈر مہیش بھگوت، ڈائرکٹر سائبر کرائم شیکھا گوئل، ڈائرکٹر نارکوٹکس سندیپ شنڈلیہ، ایڈیشنل کمشنر لاء اینڈ آرڈر حیدرآباد سٹی پولیس مسٹر وکرم سنگھ مان کے علاوہ سینئر آئی پی ایس عہدیداران رمیش، ستیہ نارائنا، رمیش، سنیل، جین و دیگر موجود تھے۔ ع