تلنگانہ میں اوقاف کی 70 فیصد جائیدادیں غیر مسلم افراد کے زیر تصرف

   

کرناٹک میں انعام مشروط الخدمات اراضیات کو شدید نقصان، عارف نسیم خان

حیدرآباد۔12۔مارچ(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کی جملہ موقوفہ اراضیات میں 70 فیصد جائیدادیں غیر مسلم افراد کے زیر تصرف ہیں اور ان جائیدادوں کو فوری طور پر واپس حاصل کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ موقوفہ جائیدادوں کے استعمال کے ذریعہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود و معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان جائیدادوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جاسکے کیونکہ مختلف ریاستوں میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر اقتدار حکومتوں کی جانب سے موقوفہ جائیدادوں کو خانگی اغراض و مقاصد کے لئے حاصل کرنے کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے اور کہا جا رہاہے کہ وقف ایکٹ1995 کے خلاف چند ماہ قبل شروع کی گئی مہم کو ریاستی سطح پر قانون سازی کے پارلیمانی ایکٹ کی روح کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ تلنگانہ میں موجود موقوفہ اراضیات کے تحفظ کے لئے فوری طور پر ان جائیدادوں پر جہاں غیر مسلم خاندان آباد ہیں یاان جائیدادوں سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں انہیں مدت کے اختتام کے بعد تخلیہ کروانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے تحت موجود جائیدادوں کو اگر اسی طرح سے نقصان پہنچانے کی مستقبل میں کوئی سازش ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں انعام مشروط الخدمات اراضیات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پڑوسی ریاست مہاراشٹر ا میں بی جے پی حلیف شیوسینا حکومت نے قانون سازی میں ناکامی کے بعد آرڈیننس کی اجرائی کے ذریعہ موقوفہ جائیدادوں بالخصوص مرہٹواڑہ علاقہ کی مذہبی جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے ۔مہاراشٹرا کے سابق ریاستی وزیر جناب عارف نسیم خان نے بتایا کہ ریاست مہاراشٹرا میں موجود موقوفہ اراضیات کے ہی نہیں بلکہ وقف ایکٹ 1995 کے مطابق ملک کی کسی بھی موقوفہ اراضی کے موقف کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور حکومت مہاراشٹرا کی جانب سے کئے جانے والے یہ اقدامات وقف ایکٹ 1995 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جناب عارف نسیم خان نے بتایا کہ حکومت کی ان کوششوں کی مخالفت کی جائے گی اور اس آرڈیننس کو چیالنج کیا جائے گا کیونکہ وقف ایکٹ کے مطابق تمام انعام مشروط الخدمات اراضیات موقوفہ اراضیات کی فہرست میں شامل ہیں اور ان اراضیات کے معاملہ میں حکومت کی بدنیتی ظاہر ہونے لگی ہے۔ ملک بھر میں گذشتہ چند ماہ سے وقف اراضیات مرکزی حکومت کی نظر میں کھٹکنے لگی ہیں اور ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے موقوفہ اراضیات اور ملک بھر میں درگاہوں‘ خانقاہوں‘ قبرستانوں کے علاوہ مساجد و دیگر مقامات کے تحت موقوفہ اراضی کو نشانہ بنایا جانے لگا تھا اور وقف ایکٹ 1995کے خلاف مہم چلاتے ہوئے اسے برخواست کرنے کی بات کی جا رہی تھی اور اب یہ سلسلہ آر ایس ایس کے ترجمان میگزین اور بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں مختلف طریقوں سے شروع کیا جاچکا ہے۔م
اسی لئے ایسی صورت میں موقوفہ اراضیات کے تحفظ کے لئے فوری طور پر اقدامات کرتے ہوئے زیر تصرف جائیدادوں کی مکمل تفصیلات کو یکجا کرنے اور ان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ وقف بورڈ کے ذرائع کے مطابق ریاست کے مختلف اضلاع میں سیاسی قائدین کے زیر تصرف لاکھوں ایکڑ موقوفہ اراضیات ہیں جنہیں فوری طور پر واپس حاصل کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ ریاست تلنگانہ میں وقف بورڈ کو حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے دعوؤں کو درست ثابت کرنے کے لئے ان جائیدادوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کی ترقی کے سلسلہ میں بھی اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ م