تلنگانہ میں بچپن کی شادیوں میں مسلمان دیگر طبقات کے مقابلے محتاط

   

تعلیم یافتہ او سی طبقہ میں کم عمر کی شادیوں میں ریکارڈ اضافہ، جی ایچ ایم سی حدود سرفہرست
حیدرآباد۔19 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بچپن کی شادیوں میں مسلمان دیگر طبقات کے مقابلہ محتاط ہیں اورتمام طبقات میں مسلمان ہی ہیں جن میں سب سے کم بچپن کی شادیاں کی جاتی ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کروائے گئے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں ہونے والی کم عمری کی شادیوں میں مسلمانوں کا تناسب محض 0.98 فیصد ہے یعنی 1فیصد مسلمان بھی 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی نہیں کرتے اس کے برعکس دیگر طبقات میں بچپن کی شادیوں کے رجحان میں کافی اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔ریاست بھر میں 2لاکھ 16ہزار ایسی لڑکیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی شادی 18 سال سے کم عمرمیں کردی گئی ہیں ۔ سروے میں دیئے گئے اعداد وشمار کے مطابق 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کرنے والوں کا تعلق غیر تعلیمیافتہ گھرانوں سے نہیں ہیں اور نہ ہی دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والوں میں یہ پایا جاتا ہے ۔ مجموعی طور پر سب سے زیادہ کم عمر میں شادی کرنے والے گھرانوں کا تعلق OC طبقہ سے ہے جو کہ نہ صرف تعلیمیافتہ طبقہ ہے بلکہ معاشی اعتبار سے اس طبقہ میں مستحکم لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ریاستی حکومت کی سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تلنگانہ میں سب سے زیادہ بچپن کی شادیاں یعنی 18 سال کی قانونی عمر کو پہنچنے سے قبل کی جانے والی شادیاں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں کی جارہی ہیں۔ جی ایچ ایم سی حدود میں کی جانے والی شادیوں کے سلسلہ میں رپورٹ میں ہوئے انکشاف کے مطابق کم عمر میں یعنی10تا18 سال کی عمر کے درمیان کی جانے والی شادیوں میں جی ایچ ایم سی کا حصہ 11.6 فیصد ہے اور تلنگانہ کا کوئی دیہی علاقہ جی ایچ ایم سی حدود کے قریب بھی نہیں ہے اور نارائن پیٹ جو کہ دیہی ضلع شمار کیا جاتا ہے وہ ریاست کے دیگر اضلاع میں سب سے زیادہ 6.7فیصد کے ساتھ آگے ہے۔ تفصیلات کے مطابق تلنگانہ کے شہری علاقوں میں مجموعی طور پر بچپن کی شادیوں کا فیصد 6.9 ریکارڈ کیاگیا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ فیصد محض 4.7 ریکارڈ کیاگیا ہے جو کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ باشعور اور تعلیم یافتہ خاندانوں کے علاوہ معاشی طور پر مستحکم خاندانوں میں جو شہری علاقوں میں رہنے والے ہیں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کے رجحان میں اضافہ پایا جاتا ہے۔ رنگاریڈی ضلع میں کم عمر لڑکیوں کی شادی کے تناسب کا جائزہ لینے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 7.3 فیصد کم عمر شادیوں کا تعلق رنگاریڈی سے ہے جبکہ میڑچل ملکا جگری ضلع میں 6.8 فیصد یہ تناسب ریکارڈ کیا گیا ہے۔3؍M؍V