تلنگانہ میں بھارت جوڑو یاترا کا پانچواں دن، راہول گاندھی کا جگہ جگہ استقبال

,

   

اسکولی بچوں کے ساتھ دوڑ لگائی، خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ سیلفی، دانشوروں سے تعلیمی پالیسی پر بات چیت

a
حیدرآباد۔/30 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس قائد راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کا آج تلنگانہ میں پانچواں دن تھا جبکہ اس کے آغاز کے بعد سے راہول گاندھی 53 دنوں سے یاترا میں مصروف ہیں۔ محبوب نگر کے جڑچرلہ سے آج صبح یاترا شروع ہوئی اور ان کے ہمراہ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی، سابق اپوزیشن لیڈر جانا ریڈی اور دیگر قائدین موجود تھے۔ جڑچرلہ سے یاترا کے آغاز پر سینکڑوں کی تعداد میں عوام اور کانگریس کارکن یاترا میں شامل ہوئے۔ سڑک کی دونوں جانب سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں نے راہول گاندھی کا استقبال کیا۔ راہول گاندھی نے یاترا کے دوران رُک کر ضعیف العمر افراد سے ملاقات کی اور تصویر کھنچوائی۔ یاترا کے پانچویں دن 22 کیلو میٹر کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے آج مختلف دانشوروں کے ساتھ ملاقات کی اور مودی حکومت کی تعلیمی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا۔ شاد نگر کے سولی پور جنکشن پر راہول گاندھی نے کارنر میٹنگ سے خطاب کیا۔ دانشوروں سے ملاقات کے دوران انہیں ماہرین تعلیم اور دوسروں نے ملک کی موجودہ صورتحال میں نئی تعلیمی پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔ یاترا کے دوران کئی دلچسپ مرحلے دیکھے گئے۔ ایک مقام پر چند معصوم بچے یاترا میں راہول گاندھی کے ساتھ شامل ہوگئے اور کچھ دور چلنے کے بعد راہول گاندھی نے کمسن بچوں اور ساتھ میں موجود ریونت ریڈی سے دوڑ کی شرط لگائی اور دوڑنے لگے۔ کچھ فاصلے تک یہ دوڑ جاری رہی اور کوئی بھی شخص راہول گاندھی کو دوڑ میں پیچھے نہ کرسکا۔ راہول کی دوڑ کے ساتھ ہی سیکوریٹی حکام کو بھی دوڑ لگانی پڑی۔ اتوار کے باوجود سڑک پر راہول گاندھی کے استقبال کیلئے غیر معمولی ہجوم دیکھا گیا۔ سخت ترین سیکوریٹی انتظامات کے دوران یاترا جاری ہے اور وقفہ وقفہ سے کانگریس کے سینئر قائدین راہول گاندھی کے ساتھ کچھ فاصلے تک چل رہے ہیں۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا بھی آج یاترا میں شامل رہے۔ چائے کے وقفہ کے دوران راہول گاندھی سیکوریٹی کے تربیت یافتہ کتے کے ساتھ کچھ دیر کھیلتے رہے اور اسے بسکٹ کھلایا۔ یاترا کی سیکوریٹی میں ڈاگ اسکواڈ کا اہم رول ہے اور روزانہ راہول گاندھی سیکوریٹی کے حکام سے خوشگوار ملاقاتیں کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں یاترا کی کامیابی پر راہول گاندھی کافی خوش نظر آئے۔ اسکولی طلبہ سے راہول گاندھی نے ان کی تعلیم پر بات چیت کی۔ کرناٹک میں یاترا کے دوران بھی راہول گاندھی نے ایک مرحلہ پر دوڑ لگائی تھی جس میں وہاں کے سینئر قائدین شریک ہوئے تھے۔ راہول گاندھی نے گولہ پلی میں خواتین سے ملاقات کی۔ جئے رام رمیش رکن پارلیمنٹ نے مقامی مسائل سے واقف کرایا۔ یاترا میں روزانہ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے کانگریسی کارکن پرجوش انداز میں حصہ لے رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے یاترا کے آغاز سے قبل جئے رام رمیش اور دیگر قائدین کے ساتھ بتکماں کھیلا۔ سڑک پر استقبال کیلئے موجود خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ سیلفی کھنچوائی۔ بالانگر میں دوپہر میں توقف کیا گیا۔ واضح رہے کہ 23 اکٹوبر کو یاترا تلنگانہ میں داخل ہوئی، 4 نومبر کو ایک دن آرام رہے گا اور 7 نومبر کو یاترا مہاراشٹرا میں داخل ہوجائے گی۔ تلنگانہ میں 375 کیلو میٹر کا احاطہ کیا جائے گا۔ 31 اکٹوبر کو یاترا شاد نگر بس اسٹانڈ سے شروع ہوگی اور شام میں شمس آباد میں توقف کرے گی۔ ر(بھارت جوڑو یاترا کی مزید تصاویر صفحہ 2 پر)