تلنگانہ میں تلگو دیشم کو متحرک کرنے چندرا بابو نائیڈو کی سرگرم مساعی

   


گیانیشور کوصدارت کی پیشکش، تلنگانہ کے اہم قائدین سے مشاورت
حیدرآباد ۔10 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کی بی آر ایس میں تبدیلی کے فوری بعد صدر تلگو دیشم این چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ میں پارٹی کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے پارٹی قائدین سے مشاورت کی اور بی آر ایس کے قیام کی صورت میں تلنگانہ میں سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چندرا بابو نائیڈو نے قائدین سے کہا کہ ٹی آر ایس کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور کے سی آر نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے قومی سیاسی پارٹی کا اعلان کیا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو کے تجزیہ کے مطابق تلنگانہ میں 30 سے زائد ایسے اسمبلی حلقہ جات ہیں جہاں تلگو دیشم کا مضبوط ووٹ بینک ہیں۔ شہر کے مضافاتی علاقوں کے 13 اسمبلی حلقہ جات میں تلگو دیشم مضبوط امیدواروں کے ذریعہ کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کیلئے پارٹی کی صدارت پر موضوع شخصیت کی تلاش شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے سابق رکن کونسل کے گیانیشور سے بات چیت کی اور انہیں تلنگانہ کی صدارت کا پیشکش کیا۔ گیانیشور سابق میں تلگو دیشم سے وابستہ رہ چکے ہیں اور ان کا تعلق مدیراج کمیونٹی سے ہے۔ گیانیشور کا شمار تلنگانہ کے دولتمند سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے قائدین بھی گیانیشور سے ربط میں ہیں اور اپنی اپنی پارٹی میں شمولیت کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اسی دوران چندرا بابو نائیڈو نے بی آرایس کے قیام پر تبصرہ سے گریز کیا ہے ۔ انہوں نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ بی آر ایس کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے نئی پارٹی کو اہمیت نہ دیں۔ قومی سیاست میں کے سی آر کے حصہ لینے کی صورت میں تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی اپنے ووٹ بینک پر توجہ مرکوز کرسکتی ہے۔ ر