حیدرآباد ۔ 24 ستمبر (سیاست نیوز) طلبہ اور اولیائے طلبہ کو ایک بڑی راحت میں تلنگانہ ایڈمیشن اینڈ فیس ریگولیٹری کمیٹی (TAFRC) نے ریاست میں کئی خانگی انجینئرنگ کالجس کیلئے قبل ازیں جولائی میں مقرر کردہ فیس پر نظرثانی کرتے ہوئے فیس میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سال کمیٹی نے ایم جی آئی ٹی کیلئے سالانہ 1.60 لاکھ روپئے فیس مقرر کی ہے جو تمام خانگی کالجس میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح سی بی آئی ٹی جہاں قبل ازیں سب سے زیادہ فیس 1.73 لاکھ روپئے سالانہ تھی اب اس میں تخفیف ہوکر یہ 1.12 لاکھ روپئے سالانہ ہے۔ دوسری طرف اقل ترین فیس میں جو 2019ء میں 35000 روپئے تھی، اضافہ ہوکر سالانہ 45,000 روپئے ہوگئی ہے۔ تقریباً 12 انجینئرنگ کالجس کو سالانہ ایک لاکھ روپئے سے زائد فیس وصول ہوئی ہے اور زیادہ تر کالجس میں اقل ترین سے زائد فیس ہے۔ یہ نیا فیس ڈھانچہ آئندہ تین سال کی مدت کیلئے ہوگا جس کا آغاز 2022-23ء سے ہورہا ہے۔ چونکہ اس سال آئندہ تین سال کی بلاک مدت کیلئے نظرثانی کرنا تھا اس لئے ٹی اے ایف آر سی نے خانگی کالجس سے درخواستیں طلب کئے۔ سی بی آئی کیلئے 1.73 لاکھ روپئے سالانہ فیس اس سال جولائی میں مقرر کی گئی تھی۔ اسی طرح تقریباً 30 کالجس کی فیس پر نظرثانی کے ساتھ یہ سالانہ ایک لاکھ روپئے سے زیادہ ہوگئی تاہم اس پر نظرثانی کا اعلان نہیں کیا گیا اور کمیٹی نے جاریہ تعلیمی سال کیلئے موجودہ فیس کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ کوویڈ۔19 کے باعث طلبہ اولیائے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا چونکہ کمیٹی نے پہلے کی فیس ہی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا اس لئے 79 خانگی کالجس ہائیکورٹ سے رجوع ہوئے جس نے عبوری احکام جاری کرتے ہوئے انہیں اضافی شدہ فیس وصول کرنے کی اجازت دی۔ تاہم اس نے کالجس سے کہا کہ اگر ریگولیٹری کمیٹی کی معلنہ فیس طلبہ سے وصول کی گئی رقم سے کم ہوتو طلبہ کو فرق کی رقم واپس کردی جائے۔