کانگریس کو 2 اور بی آر ایس کو ایک نشست حاصل ہوگی
حیدرآباد۔/19 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کی کانگریس حکومت کیلئے راجیہ سبھا کی 3 نشستوں کیلئے امکانی امیدواروں کے انتخاب ایک چیلنج بن سکتا ہے۔ کانگریس کے سینئر قائدین نے راجیہ سبھی کی تینوں نشستوں کیلئے اپنی دعویداری پیش کردی ہے۔ تین مخلوعہ نشستوں کیلئے اپریل میں انتخابات ہوں گے اور یہ نشستیں بی آر ایس کے ارکان سنتوش کمار، وی روی چندر اور لنگیا یادو کی میعاد کی تکمیل کے سبب خالی ہورہی ہیں۔ 119 رکنی تلنگانہ اسمبلی میں کانگریس کے ارکان کی تعداد 64 ہے جبکہ بی آر ایس کو39 نشستیں حاصل ہیں۔ عددی طاقت کے اعتبار سے کانگریس کو 2 اور بی آر ایس کو ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ راجیہ سبھا کی رکنیت کیلئے پارٹی کے کئی سینئر قائدین نے ہائی کمان سے نمائندگی کی ہے۔ سابق وزراء کے جانا ریڈی، ایم وینکٹیشور راؤ، سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ، کے وی پی رامچندر راؤ، جی چنا ریڈی اور تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام اہم دعویداروں میں شامل ہیں۔ جانا ریڈی نے اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور ناگر جنا ساگر اسمبلی حلقہ سے فرزند جئے ویر ریڈی نے کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔ سابق صدر پردیش کانگریس وی ہنمنت راؤ گذشتہ دس برسوں سے کانگریس کیلئے اپنی جدوجہد اور طویل وفاداری کے عوض راجیہ سبھا کی رکنیت کے خواہاں ہیں۔ سابق وزیر ڈاکٹر چنا ریڈی نے ونپرتی سے ٹکٹ کی درخواست دی تھی لیکن انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے کے وی پی رامچندر راؤ جو آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے قریبی ساتھی ہیں انہوں نے تلنگانہ سے دوبارہ راجیہ سبھا کی نشست کیلئے توقعات وابستہ کی ہیں۔ وہ ہائی کمان کے سینئر قائدین سے ربط میں ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس کیلئے راجیہ سبھا کے دو امیدواروں کا انتخاب آسان نہیں رہے گا۔ر