تلنگانہ میں سب بکواس !
نہ کوئی وائس چانسلر مسلم اور نہ پبلک سرویس کمیشن کا نہ کوئی رکن مسلم ۔ روایت نظر انداز
حیدرآباد۔10۔جون(سیاست نیوز) سب کاساتھ ‘ سب کا وکاس ‘ سب کا وشواس نعرہ کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دینا سیاسی جماعتوں کا کلچر بن چکا ہے اور یہ جماعتیں بی جے پی کی سیاست اور پالیسی پر گامزن ہونے لگی ہیں۔ ملک ہی نہیں بلکہ تلنگانہ میں بھی سب کا ساتھ ‘ سب کا وکاس اور سب کا وشواس سے مسلمانوں کو علحدہ رکھا جا رہاہے! تلنگانہ میں ٹی آر ایس تشکیل تلنگانہ سے قبل مسلسل سماجی انصاف‘ مساوات اور یکساں مواقع کی بات کرتی رہی ہے لیکن اگر گذشتہ 8 برسوں کے دوران عملا حکومت کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا جائے تو پہلی معیاد کے بعد سے ٹی آر ایس نے مسلمانو ں کو نظرانداز کرنا شروع کردیا اور ان کی نمائندگیاں ختم ہونے لگی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں حکومت سے کوئی مسلم نمائندگی نہیں دی گئی جبکہ ریاست میں 90 ہزار سے زائد مخلوعہ جائیدادوں پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ تقررات کئے جانے ہیں ۔ پبلک سروس کمیشن میں کوئی مسلم نمائندگی نہیں ہے ۔ بغیر مسلم نمائندگی والے کمیشن کے ذریعہ تقررات میں مسلمانوں سے ناانصافی کے متعلق شکوک و شبہات فطری ہیں۔ اسی طرح تلنگانہ کی 10ریاستی یونیورسٹیزمیں کسی ایک میں مسلم وائس چانسلر کو نمائندگی نہیں دی گئی جو کہ ناانصافی کی ایک اور دلیل ہے۔ اسی طرح تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن لمیٹڈ میں ایک بھی مسلم ڈائرکٹر کی نامزدگی نہیں ہے ۔ تلنگانہ میں تمام طبقات سے انصاف اور مساوی مواقع فراہم کرنے کے علاوہ آبادی کے تناسب سے بجٹ کی فراہمی کو یقینی کے وعدے کئے گئے لیکن حکومت کی جانب سے پہلی معیاد کے بعد سے مسلمانوں کو نظرانداز کیا جانے لگا اور ان کی نمائندگی کو گھٹانے کی کوشش کی جا تی رہی جو کہ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ قانون ساز کونسل میں مسلم ارکان کی تعداد گھٹ گئی ۔ تلنگانہ کی 10 جامعات میں جہاں ریاستی حکومت سے وائس چانسلرس کے تقرر میں قواعد کی خلاف ورزی کرکے نامزدگیاں کی گئی ہیں ان میں مسلمانوں کو نظرانداز کردیا گیا اور کسی بھی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے عہدہ پر مسلم پروفیسر کا تقرر نہیں کیا گیا جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت نے مسلمانو ںکو نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے تاکہ اکثریتی آبادی کو تاثر دیا جاسکے کہ حکومت ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو خاموشی سے نظرانداز کر رہی ہے اور ان کی ترقی اور مساوی حقوق کے متعلق اعلانات زبانی ہیں۔ حکومت نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ تقررات کے اعلان کیا اور لیکن پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ریاستی پبلک سروس کمیشن میں کوئی مسلم نمائندگی نہیںہے ۔ کمیشن میں مسلم نمائندگی نہ ہونے سے مسلم امیدواروں کیلئے مسائل پیش آرہے ہیں جن میں کمیشن کے ذمہ داروں سے رابطہ اور ان تک رسائی تک ممکن نہیں ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد توقع تھی کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں کو دور کریگی اور وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔ حکومت نے مسلم ڈپٹی چیف منسٹر کا اعلان کیاتھا اور تشکیل تلنگانہ کے بعد پہلی معیاد میں دلت اور مسلم ڈپٹی چیف منسٹر رہے لیکن یہ عہدہ ختم کردیا گیا۔ پبلک سروس کمیشن میں مسلم نمائندگی کا نہ دیا جانا ‘ تلنگانہ کی ریاستی جامعات میں مسلم وائس چانسلر کو تقرر سے اعراض اور مسلمانوں سے ہمدردی اور ہندستان میں نمبر ایک سیکولر چیف منسٹر کے دعوے حقیقت کو آشکار کرنے کافی ہیں اور تلنگانہ میں بھی مسلمانوں کے علاوہ سب کا وکاس ہورہا ہے۔م