تلنگانہ میں سرکاری دواخانوں کی کمی سے کارپوریٹ ہاسپٹلس کی چاندی

   


غریب اور متوسط طبقات پریشان، شہری اور دیہی علاقوں میں سرکاری دواخانوں کی ضرورت
حیدرآباد 5 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں سرکاری دواخانوں کی کمی کے نتیجہ میں عوام خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کے استحصال کا شکار ہیں۔ حکومت سرکاری دواخانوں میں کارپوریٹ طرز کی طبی خدمات فراہم کرنے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن دواخانوں کی تعداد عوام کی ضرورتوں کی تکمیل سے قاصر ہے۔ حکومت نے 4 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام کا اعلان کیا ہے جو شہر کے اطراف تعمیر کئے جائیں گے۔ شہری علاقوں کے علاوہ دیہی علاقوں میں سرکاری دواخانوں کی ضرورت زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ریاست بھر میں 7 ہزار سے زائد خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس ہیں جبکہ سرکاری دواخانوں کی تعداد تقریباً ایک ہزار ہے۔ اِن میں بھی 800 سے زائد پرائمری ہیلت سنٹرس کی طرح کام کررہے ہیں۔ غریب عوام کو سنگین امراض کے علاج کے لئے مجبوراً کارپوریٹ ہاسپٹلس رجوع ہونا پڑرہا ہے۔ حکومت نے آروگیہ شری اسکیم کے تحت مفت علاج کی سہولت کا اعلان کیا ہے لیکن کارپوریٹ ہاسپٹلس آروگیہ شری اسکیم پر عمل آوری کے لئے تیار نہیں۔ دواخانوں کے مالکین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے آروگیہ شری علاج کے بقایا جات جاری نہیں کئے گئے۔ موجودہ صورتحال میں غریب اور متوسط طبقات خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کی لوٹ کا شکار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں میں 700 خانگی دواخانوں کا رجسٹریشن کیا گیا۔ منڈل کی سطح پر خانگی ڈائیگناسٹک سنٹرس قائم ہوچکے ہیں۔ سوریہ پیٹ، ورنگل اور نلگنڈہ جیسے بڑے اضلاع میں سرکاری دواخانوں کی تعداد انتہائی کم ہے جبکہ 100 سے زائد خانگی ہاسپٹلس ہیں۔ کارپوریٹ شعبہ میں علاج سے بھاری آمدنی کو دیکھتے ہوئے کئی ڈاکٹرس نے خود اپنے اضافی دواخانے قائم کرلئے ہیں جن کے ذریعہ زائد رقومات پر علاج کیا جارہا ہے۔ ر