ہائی کورٹ کا عبوری حکم ، حکومت اور کالجس کی کشیدگی کا خمیازہ طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے
حیدرآباد 21 اپریل : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ میں اعلیٰ تعلیم پانے والے طلبہ کیلئے ایک تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے تعلیمی سال 20262-27 سے طلبہ کو اپنی کالجس فیس خود ادا کرنا پڑے گا ۔ چاہے وہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے اہل ہی کیوں نہ ہوں ۔ اس پیشرفت نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی بنادیا ہے ۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب تلنگانہ ہائی کورٹ نے فیس ری ایمبرسمنٹ بقایا جات کے معاملے میں عبوری حکم جاری کرکے کالجس کو اجازت دی کہ وہ آئندہ تعلیمی سال سے طلبہ سے براہ راست فیس وصول کریں ۔ سماعت کے دوران حکومت عدالت کوموثر دلائل فراہم کرنے میں ناکام رہی ۔ نہ ہی کاونٹر داخل کیا گیا اور نہ ہی فیصلے کے خلاف اپیل یا نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی ۔ ریاست میں انجینئرنگ ، فارمیسی ، بی ایڈ ، ایم ایڈ ، لا جیسے کورسیس کی فیس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے ۔ تعلیمی سال 2026-27 ، 2027-28 ، 2028-29 کیلئے جاری احکام کے مطابق 63 انجینئرنگ کالجس میں فیس بڑھائی گئی ۔ بعض کالجس میں اضافہ 62 ہزار روپئے تک کیا گیا اس کے علاوہ کئی کالجس میں 20 سے 30 ہزار روپئے تک بھی اضافہ شامل ہے ۔ اب ان کالجس میں داخلہ لینے والے طلبہ کو مکمل فیس اپنی جیب سے ادا کرنی ہوگی ۔ بصورت دیگر انہیں اپنی نشست سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے ۔ ریاست میں 14 لاکھ طلبہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم سے فائد اٹھا رہے ہیں ۔ نئی پالیسی کے بعد طلبہ کو داخلے کے وقت پوری فیس ادا کرنا ہوگا ۔ کم آمدنی والے طبقات ( ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ) اس فیصلے سے زیادہ متاثر ہونگے ۔ والدین پر مالی بوجھ کئی گنا بڑھ جائے گا ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ حکومت اور خانگی پیشہ وارانہ کالجس کے درمیان بقایا جات کی ادائیگی پر کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ کالج انتظامیہ نے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر دو مرتبہ ہڑتال کی ۔ حکومت نے کچھ بقایا جات جاری کئے ۔ تاہم تنازعہ برقرار ہے ۔ جس کا براہ راست اثر طلبہ پر پڑ رہا ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ حکومت اس اسکیم میں بڑی تبدیلی پر غور کررہی ہے ۔ جس کے تحت فیس کی رقم براہ راست کالجس کی بجائے طلبہ کے بنک اکاونٹس میں جمع کی جائے گی ۔ جس کی طلبہ تنظیموں نے مخالفت کی ہے ۔ تلنگانہ میں فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کا بحران ایک سنگین تعلیمی اور سماجی مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ حکومت کی پالیسی ، عدالت کے فیصلے اور کالجس کی فیس میں اضافہ ، یہ تمام مسائل طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کررہے ہیں ۔ آئندہ دنوں میں حکومت کے اقدامات ہی اس بحران کے حل کا تعین کریں گے ۔۔ 2/k/b