73.39 لاکھ ووٹرس کا نام لسٹ سے غائب
الیکشن کمیشن کے پاس فارمس ہی دستیاب نہیں
حیدرآباد۔31 اگست (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) مہم کے دوران ایک طرف جہاں 73.39 لاکھ ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کئے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، وہیں دوسری جانب تمام اضلاع بالخصوص گریٹر حیدرآباد میں فارم 6، فارم 7 اور فارم 8 کی شدید قلت اور عدم دستیابی نے شہریوں اور سیاسی جماعتوں میں شدید بے چینی پھیلا دی ہے۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کے مطابق یکم اکٹوبر 2026ء تک 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نوجوانوں کو نئے ووٹر کے طور پر رجسٹر ہونے کا موقع دیا گیا ہے، تاہم حال ہی میں شائع کردہ مسودہ ووٹر لسٹ سے 73.39 لاکھ غیرحاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور دوہرے ووٹ (AACD) کو ہٹا دیا گیا ہے۔ عوامی شکایت ہے کہ کئی مقامات پر ووٹرس کو انومریشن فارمس دیئے بغیر ان کا نام (AACD) لسٹ میں ڈال کر ان کا ووٹ خارج کردیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جن کا نام غلطی سے کٹا ہے، وہ فارم 6 کے ذریعہ دوبارہ اندراج کروائیں۔ عوام اور بی ایل اوز سوال اُٹھا رہے ہیں کہ جب پولنگ بوتھ پر فارم 6 اور اس کے ساتھ درکار ڈیکلریشن فارمس ہی دستیاب نہیں ہیں تو متاثرہ شہری اور نئے 18 سالہ ووٹرس دوبارہ کیسے رجسٹر ہوں گے؟ جن ووٹرس کو ان کی پرانی رہائش گاہ پر انیومریشن فارمس دیئے گئے تھے اور اب وہ موجودہ پتے پر اپنا ووٹ منتقل کروانا چاہتے ہیں یا جن کے نام کے ہجے میں غلطی ہے، انہیں فارم 8 کی اشد ضرورت ہے مگر فی الوقت اضلاع اور شہر میں کہیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔ جعلی یا مشکوک ووٹرس کے نام ڈرافٹ لسٹ سے نکلوانے اور شکایات درج کرانے کیلئے فارم 7 کا ہونا لازمی ہے، لیکن یہ فارم بھی فیلڈ سطح پر دستیاب نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کی واضح ہدایت کے باوجود ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرس اور الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرس اسمبلی حلقہ کے لحاظ سے فارمس پرنٹ کرواکر بی ایل ایز کو دیں۔ ایک بی ایل او نے انکشاف کیا کہ سروے کے دوران ان کے پورے علاقے میں محض 10 سے 20 فارم۔6 دیئے گئے جو سینکڑوں متاثرہ ووٹرس کے مقابلے اونٹ کے منھ میں زیرہ کے برابر ہے۔ ضلع بھدرادری کتہ گوڑم کے بشمول دیگر اضلاع میں تحصیلداروں اور EROs نے زبانی احکامات دیئے ہیں کہ پرنٹنگ نہیں کی جارہی ہے، لہذا شہری می سیوا یا پرائیویٹ انٹرنیٹ سنٹرس سے خود زیراکس کرواکر لائیں۔ اس مہنگے اور پیچیدہ طریقہ کار پر تمام سیاسی جماعتوں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری نظام کی غفلت کا بوجھ غریب ووٹرس پر کیوں ڈالا جارہا ہے۔J2