کیڈر پوسٹ کی تقسیم کا عمل مکمل ، دو تین دن میں رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی
حیدرآباد ۔ 23 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : ریاست میں ٹیچرس کے 18 ہزار جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ ان جائیدادوں پر تقررات کے لیے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکولی تعلیم کیڈر پوسٹ کی تقسیم کا کام تقریبا مکمل ہوچکا ہے جس کی رپورٹ دو تین دن میں حکومت کو پیش کردی جائے گی ۔ حکومت کی جانب سے ریاست بھر میں کیڈر پوسٹ کو تقسیم کرنے کا کام جاری ہے ۔ یہ عمل آخری مراحل میں پہونچ چکا ہے ۔ عہدیداروں کی جانب سے ضلعی سطح پر کیڈر پوسٹ کو تقسیم کرنے کی فہرست تیار کی جاچکی ہے ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیدار ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ( ڈی ای اوز ) سے تفصیلات حاصل کررہے ہیں ۔ کل بھی ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ تفصیلات حاصل کی گئی ۔ جس کے مطابق ریاست میں ٹیچرس کی جملہ 1.20 لاکھ جائیدادیں ہیں ۔ فی الحال 1.02 لاکھ ٹیچرس خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ کیڈر کی تقسیم میں ایس جی ٹیز ، اسکول اسسٹنٹس ، جونیر اسسٹنٹس ، پی ای ٹیز کو ضلع سطح کے کیڈر کی حیثیت سے نشاندہی کی گئی ہے ۔ ہیڈ ماسٹرس ، ایم ای اوز ، سینئیر اسسٹنٹس اور سپرنٹنڈنٹس جیسی جائیدادوں کو زونل ، ملٹی زونس کے حدود میں لایا جارہا ہے ۔ ریاستی سطح کے دفاتر اسکول تعلیمی کمشنریٹ ، این سی آر ٹی میں خدمات انجام دینے والا عملہ ، دوسرے عہدیداروں کی جائیدادوں کو ریاستی سطح کی جائیدادوں کی حیثیت سے نشاندہی کی گئی ہے ۔۔ ن
ٹیچرس سلیکشن امتحان میں کامیابی کے باوجود روزگار سے محرومی
منچریال میں 25 سالہ نوجوان کی خودکشی
حیدرآباد۔/23نومبر،( سیاست نیوز) ٹیچرس سلیکشن امتحان میں کامیابی کے باوجود 5 برسوں تک حکومت کی جانب سے عدم تقررات سے دلبرداشتہ ہوکر منچریال ضلع کے کوٹا پلی منڈل کے 25 سالہ اے مہیش نے زہر کھاکر خودکشی کرلی۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے آج منچریال پہنچ کر مہیش کے افراد خاندان سے ملاقات کی اور 50 ہزار روپئے کی امداد حوالے کی۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے ہر ممکن امداد اور ملازمت کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ کے سی آر نے تلنگانہ تحریک کے دوران ہر گھر کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ مہیش نے ٹیچر سلیکشن امتحان میں کامیابی کے بعد روزگار کی امید میں کئی برس گذار دیئے۔ خاندان کو معاشی پریشانیوں سے نجات دلانے کیلئے مہیش نے کافی کوشش کی لیکن روزگار سے محروم رہا۔ آخر کار اس نے زہر کھاکر اپنی جان دے دی۔ ہنمنت راؤ نے حکومت سے متاثرہ خاندان کو 50 لاکھ روپئے امداد اور ملازمت کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا آغاز کرتے ہوئے حکومت نوجوانوں کی خودکشی کے واقعات کو روک سکتی ہے۔ر