عوام کو شدید مسائل کا سامنا، حکومت کو قیمتوں پر قابو پانے کی ضرورت
حیدرآباد۔15۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں چاول کی قیمتو ںمیں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کہا جارہا ہے کہ آئندہ دنوں میں چاول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے لیکن ریاستی حکومت کو باریک چاول کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ گذشتہ 2ماہ کے دوران ریاست میں سوپر فائن رائس کی قیمتوں میں 800 روپئے فی کنٹل تک کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔ مہنگائی کے نتیجہ میں پریشان عوام کے لئے اگر اشیائے تغذیہ بھی مہنگی ہونے لگ جائیں تو ایسی صورت میں عوام کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ چاول تلنگانہ عوام کے لئے انتہائی ضروری شئے ہے اور بیشتر تلنگانہ میں چاول کا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہی ریکارڈ کیا جاتا رہاہے ۔ ٹھوک تاجرین نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں جو باریک چاول ماہ جون کے دوران 4600 روپئے فی کنٹل فروخت کیا جارہا تھا اس کی قیمتو ںمیںاضافہ کے بعد اب وہی چاول ریاست میں 5500 روپئے فی کنٹل فروخت کیا جا رہاہے اسی طرح جس چاول کی قیمت ماہ جون کے دوران 5600 ہوا کرتی تھی اسی چاول کو اب ماہ اگسٹ کے درمیان 6300 روپئے فی کنٹل فروخت کیا جانے لگاہے۔رائس ملرس کا کہناہے کہ چاول کی صفائی اور نفاست کو یقینی بنانے کے اقدامات کے طور پر کی جانے والی کاروائی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں یہ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ ٹھوک تاجرین کا کہناہے کہا اگر باریک چاول کی قیمتوں میں اضافہ کو فوری روکنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیںتو ایسی صورت میںموسم کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ پیش قیاسی کی جاسکتی ہے کہ چاول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اسی لئے حکومت کو فوری حرکت میں آتے ہوئے چاول کی قیمتوں پر قابو پانے کے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ ’’چاول ‘‘ اشیائے ضروریہ کی فہرست میں سرفہرست اشیاء کا حصہ ہے ۔2