ایک ہی دن میں 42 اموات ، احتیاطی اقدامات کرنے ماہرین طب کا مشورہ
حیدرآباد ۔ 25 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ اس وقت شدید ترین موسمی بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں آسمان سے برستی آگ اور ہیٹ اسٹروک ( لو لگنے ) کی وجہ سے گزشتہ تین دنوں کے دوران 100 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ ریاست بھر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے اور لوگ گرمی کی شدت برداشت نہ کرتے ہوئے مرغیوں کی طرح گر کر دم توڑ رہے ہیں ۔ صرف اتوار کو ایک ہی دن میں ریاست کے مختلف اضلاع میں لو لگنے کی وجہ سے 42 افراد کی موت ریکارڈ کی گئی جس نے حکومت اور انتظامیہ کے ہوش اڑا دئیے ہیں ۔ دوسری طرف دن بھر کی جھلسا دینے والی گرمی کے بعد شام کے وقت اچانک تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی جانی نقصان کا سبب بن رہے ہیں ۔ تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد سمیت تلنگانہ کے کئی اضلاع میں پارہ 43ڈگری سے تجاوز کر کے 46 ڈگری تک پہونچ گیا ۔ صبح 8 بجے سے ہی گرمی کی شدت کا آغاز ہورہا ہے جو دوپہر تک آگ کی بھٹی میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ اس شدید موسمی بحران کے دوران کسانوں کی مشکلات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ اضلاع سے موصولہ رپورٹس کے مطابق اس شدید گرمی کی وجہ سے صرف اتوار کو متحدہ ضلع ورنگل میں سب سے زیادہ 17 افراد فوت ہوئے جب کہ ضلع کھمم میں 10 ، ضلع کریم نگر میں 8 اور ضلع نلگنڈہ میں 5 افراد کے موت کی تصدیق کی گئی ۔ طبی ماہرین نے لو لگنے کی علامت بتاتے ہوئے کہا کہ شدید سردرد ، چکر آنا ، بہت زیادہ پسینہ آنا یا بالکل پسینہ نہیں آنا ۔ الٹی یا متلی کا احساس اور تیز بخار اگر کسی میں یہ علامتیں نظر آئیں تو اسے فوری سامنے میں لائیںٹھنڈی پٹیاں کریں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ صبح 11 سے شام 4 بجے تک گھروں سے غیر ضروری باہر نہ نکلیں اگر نکلنا ضروری ہے تو احتیاطی اقدامات کریں ۔۔ 2/m/b