حلقوں کی حد بندی بھی نہیں کی جائے گی ، مرکزی حکومت کے بیان پر تلگو ریاستوں میں ناراضگی
حیدرآباد۔28جولائی (سیاست نیوز) دونوں تلگو ریاستوں آندھرا پردیش و تلنگانہ میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل نشستوں میں اضافہ کے کوئی امکانات نہیں ہیں اور نہ ہی حلقہ جات اسمبلی کی حدبندی کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی وضاحت کے بعد دونوں ریاستوں میں برسراقتدار جماعتوں کے قائدین میں ناراضگی پائی جانے لگی ہے ۔تلنگانہ و آندھراپردیش میں حلقہ جات اسمبلی کی ازسر نو حد بندی کا عمل 2026 کی مردم شماری کے بعد ہی ممکن ہے ۔تلگو ریاستوں آندھرا پردیش و تلنگانہ کی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کے سلسلہ میں دونوں ریاستوں میں برسراقتدار جماعتو ںکی جانب سے ریاست آندھرا پردیش کی تنظیم جدید ایکٹ 2014کے مطابق اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کے سلسلہ میں مرکزی حکومت سے متعدد مرتبہ نمائندگی کی جاچکی ہے ۔رکن راجیہ سبھا بھارتیہ جنتا پارٹی جی وی ایل نرسمہا راؤ نے راجیہ سبھا میں دونوں تلگو ریاستوں کے حلقہ جات اسمبلی کی تعداد میں اضافہ کے متعلق اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی مملکتی وزیر داخلہ نتیانند رائے نے ایوان کو بتایا کہ آندھراپردیش اور تلنگانہ کی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کے لئے دستوری ترمیم درکار ہے اور دستوری ترمیم کے بغیر ان میں اضافہ کیا جانا ممکن نہیں ہے۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ قوانین کے مطابق 2026 کی مردم شماری کے بعد ہی تلنگانہ و آندھرا پردیش کی حلقہ جات اسمبلی کی تعداد میں اضافہ ممکن ہوگا اور اگر فوری طور پر آندھراپردیش تنظیم جدید ایکٹ 2014 کے مطابق حلقہ جات اسمبلی کی تعداد میں اضافہ کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں دستوری ترمیم ناگزیر ہوگی۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید ایکٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ میں موجود حلقہ جات اسمبلی کی تعداد 119 سے بڑھا کر153 کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اسی طرح ریاست آندھرا پردیش میں موجود 175حلقہ جات اسمبلی کو بڑھا کر 225 کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور دونوں ہی ریاستوں میں برسراقتدار سیاسی جماعتو ںکی جانب سے مسلسل اس فیصلہ پر عمل آوری کے سلسلہ میں نمائندگی کی جا رہی ہے لیکن مرکزی حکومت نے اب یہ واضح کردیا ہے کہ دونوں ریاستو ں کے حلقہ جات اسمبلی کی تعداد میں سال 2026کے بعد ہی اضافہ کیا جاسکتا ہے اور نئی حد بندی کے لئے مردم شماری کے اعداد و شمار ہونا ضروری ہے۔ م