با اثر افراد بھی تشہیر کرنے لگے ہیں۔ نوجوانوں کو روکنے فوری اقدامات نا گزیر
حیدرآباد۔18۔مارچ(سیاست نیوز ) دونوں شہروں کے علاوہ تلنگانہ وآندھراپردیش میں قمار بازی بھی منشیات کی طرح تیزی سے فروغ پانے لگی ہے اور اگر حکومت سے قمار بازی کی لعنت پر قابو پانے اقدامات نہیں کئے گئے تو یہ لعنت نوجوانوں کو منشیات کی طرح عادی بنانے کا سبب بن سکتی ہے۔ قمار بازی سے متعلق ایپ موبائیل فونس پر ویڈیو اور ریلز کے علاوہ گیمس کے دوران اس طرح نشر کئے جارہے ہیں جیسے کہ ان میں کوئی قباحت ہی نہیں ہے ۔ موبائیل پر موجود قمار بازی کے ان ایپ کی کئی بااثر سوشل میڈیا انفلیونسرس کی جانب سے تشہیر کی جا رہی ہے اور نوجوان آن لائن دستیاب ان قمار بازی ایپ سے متاثر ہو کر اس کا حصہ بننے لگے ہیں۔ چند برس قبل جب منشیات کو اسی طرح فروغ دیا جانے لگا تھا اور شہر کے مختلف پبس اور نوجوان نسل کے جمع ہونے کے مقامات بالخصوص جم وغیرہ کے قریب منشیات کی فروخت کی جانے لگی تھی تو اسے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے جس کے نتیجہ میں آج اسکولوں میں بھی منشیات کی لعنت پھیل گئی ہے اور اب گذشتہ چند ماہ کے دوران اچانک آن لائن قمار بازی کو فروغ دیا جانے لگا ہے اور قمار بازی کے ذریعہ نوجوان نسل کے علاوہ قمار بازی کے عادی افراد اپنی جمع پونجی کھونے لگے ہیں ۔ اس کے علاوہ نوجوان جو اپنے والدین کے فون استعمال کرتے ہیں ان فونس میں موجود کھاتوں یا آن لائن ادائیگی ایپ کے ذریعہ ہزاروں روپئے گنوانے لگے ہیں۔ قمار بازی کے اڈوں پر نوجوانو ںکو جانے سے روکنے انہیں تنبیہ کی جاتی ہے اور اس کے نقصانات کے متعلق واقف کروایا جاتا ہے لیکن آن لائن قمار بازی کے ایپلیکیشن کے متعلق بہت کم والدین واقف ہیں جس کے نتیجہ میں نوجوانوں کو تنبیہ کرنے سے قبل ہی وہ قمار بازی کی لعنت کا شکارہونے لگے ہیں اس کے علاوہ آن لائن ویڈیو دیکھتے ہوئے پیسے کمانے کے ایپ کے ذریعہ بھی شہریوں کو ٹھگنے کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے جو ویڈیوز کو زیادہ لوگوں کے مشاہدہ تک پہنچانے ادائیگی کی جاتی ہے اور اس ادائیگی کو وصول کرنے موبائیل صارفین سے ہزاروں روپئے وصول کئے جاتے ہیں اور لاکھوں صارفین 1 یا 2 ہزار روپئے ادا کرتے ہیں اور اس کے بعد وہ کمپنی بند ہوجاتی ہے تو 1 یا 2 ہزار روپئے کیلئے کوئی شکایت نہیں کرواتا لیکن دھوکہ باز ایسے لاکھوں افراد کو دھوکہ دے چکے ہوتے ہیں۔3