پہلے سال صرف 1400 کروڑ روپئے خرچ ، میناریٹی سب پلان کا وعدہ نظر انداز
حیدرآباد ۔ 22 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ریاستی سکریٹری سابق صدر نشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن امتیاز اسحاق نے تلنگانہ کے اقلیتی بجٹ کو ’ نام بڑے درشن چھوٹے ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتی بجٹ میں گذشتہ سال کے بہ نسبت 585 کروڑ روپئے کا اضافہ کرتے ہوئے اعداد و شمار کی الٹ پھیر سے اقلیتوں کو دھوکہ دیا جارہا ہے ۔ صرف اعداد و شمار میں اضافہ کرنا کافی نہیں ہے بلکہ منظورہ بجٹ کو مکمل استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ گذشتہ سال کے اقلیتی بجٹ 3003 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی مگر صرف 1400 کروڑ روپئے ہی خرچ کیا گیا ۔ امتیاز اسحاق نے پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں تلنگانہ سے کم اقلیتوں کی آبادی ہے اور ساتھ ہی تلگو دیشم ۔ بی جے پی اور جنا سینا کا اتحاد ہے باوجود اس کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے 5 ہزار کروڑ سے زیادہ اقلیتی بجٹ منظور کیا ہے ۔ کانگریس پارٹی سیکولر نظریات پر قائم رہنے کا اعلان کرتی ہے ۔ میناریٹی ڈیکلریشن میں پہلے سال ہی 4 ہزار کروڑ روپئے کا اقلیتی بجٹ منظور کرنے اقلیتی بے روزگاروں کو مالی امداد کے لیے 1000 کروڑ روپئے کا علحدہ بجٹ منظور کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ کانگریس کے دو مکمل بجٹ پیش ہوچکے ہیں مگر وعدے کے مطابق اقلیتی بجٹ 4000 کروڑ روپئے نہیں ہوپایا ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں ۔ اقلیتوں کو سب پلان دینے کا وعدہ کیا گیا اس کو بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ بی آر ایس کے قائد نے ریاست میں اقلیتوں پر حملے ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لا اینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوجانے کا کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا ۔۔ 2