تلنگانہ کور کمیٹی سے مشاورت کے بعد ہائی کمان کا فیصلہ، امکانی وزراء میں راج گوپال ریڈی، جی ویویک، سری ہری اور پریم ساگر کے نام شامل، مسلم وزیر کی شمولیت زیرغور
حیدرآباد 25 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ میں توسیع کو آخرکار کانگریس ہائی کمان نے منظوری دے دی ہے اور توقع ہے کہ 3 اپریل کو تقریب حلف برداری منعقد ہوگی جس میں نئے وزراء کو گورنر جشنودیو ورما حلف دلائیں گے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی پر مشتمل ریاستی کور کمیٹی کے ساتھ کل رات نئی دہلی میں کانگریس ہائی کمان کی تقریباً دو گھنٹے تک مشاورت رہی۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے، قائد اپوزیشن راہول گاندھی، جنرل سکریٹری اے آئی سی سی کے سی وینو گوپال اور تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن نے امکانی وزراء کے ناموں پر مشاورت کی اور سماجی انصاف کے تحت مختلف طبقات کو نمائندگی کا جائزہ لیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ہائی کمان نے کور کمیٹی کے ارکان سے امکانی وزراء کے بارے میں انفرادی رائے حاصل کی تاکہ ناموں کو طے کرنے میں سہولت ہو۔ طویل مشاورت کے بعد 6 مخلوعہ وزارتی نشستوں میں 4 کو پُر کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ 2 وزارتی نشستیں خالی رکھی جائیں گی جنھیں آئندہ 3 ماہ بعد پُر کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس پارٹی میں امکانی ناراضگی کے اندیشے کے تحت 2 وزارتی نشستوں کو خالی رکھا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان نے جن 2 ارکان اسمبلی سے وزارت کا وعدہ کیا تھا اُنھیں کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ متحدہ نلگنڈہ ضلع سے کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی اور سابق مرکزی وزیر جی وینکٹ سوامی کے فرزند جی ویویک وینکٹ سوامی کی شمولیت یقینی دکھائی دے رہی ہے جبکہ مزید 2 وزراء کے ناموں کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی سی، ایس سی، ریڈی اور ویملا طبقات کو کابینہ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ دیگر امکانی وزراء میں پریم ساگر راؤ اور منچریال سے تعلق رکھنے والے سری ہری مدیراج کے نام پارٹی میں گشت کررہے ہیں۔ حکومت کی تشکیل کے بعد کابینہ میں مسلم وزیر کی عدم شمولیت سے مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کور کمیٹی کے ارکان سے ہائی کمان کے قائدین نے مسلم وزیر کی شمولیت پر تبادلہ خیال کیا اور واحد مسلم رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خاں کا نام زیرغور رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر کابینہ میں توسیع میں مسلم وزیر کی شمولیت کا فیصلہ کیا گیا تو جناب عامر علی خاں کی شمولیت یقینی رہے گی۔ کابینہ میں شمولیت کے دیگر دعویداروں میں سدرشن ریڈی، مال ریڈی رنگاریڈی، وجئے شانتی، گورنمنٹ وہپ ای سرینواس اور دوسرے شامل ہیں۔ نئی دہلی سے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی کی واپسی کے ساتھ ہی کئی دعویداروں نے ملاقات کرتے ہوئے نئی دہلی میں ہائی کمان کے ساتھ مشاورت کی تفصیلات حاصل کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بھٹی وکرامارکا اور اتم کمار ریڈی نے اجلاس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا تاہم اِس بات کا اشارہ دیا کہ کور کمیٹی کی جانب سے پیش کئے گئے ناموں میں سے امکانی وزراء کا انتخاب کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کمان نے پردیش کانگریس کی عاملہ کی جلد تشکیل اور نامزد عہدوں پر تقررات کا بھی فیصلہ کیا ہے۔1