تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ 3 لاکھ کروڑ سے زائد کا بجٹ

   

بجٹ کی پیشکشی … جھلکیاں
حیدرآباد۔/19 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں وزیر فینانس بھٹی وکرامارکا نے مالیاتی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کیا۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ ریاست کا بجٹ 3 لاکھ کروڑ سے تجاوز کرچکا ہے۔ وزیر فینانس نے جملہ 304965 کروڑ کا بجٹ پیش کیا جو گذشتہ مالیاتی سال 2024-25 کے مقابلہ 9965 کروڑ زائد ہے۔ گذشتہ سال کے مقابلہ مجموعی بجٹ میں 3.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
l قانون ساز اسمبلی کی کارروائی کا 5 منٹ تاخیر سے آغاز ہوا اور 11 بجے کے بجائے 11 بجکر 5 منٹ پر کارروائی شروع ہوئی۔ ایوان میں موجود بی آر ایس کے ارکان نے وزراء کی توجہ تاخیر کے بارے میں مبذول کرائی۔
l چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایوان میں پہنچنے کے بعد ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا سے خیرسگالی ملاقات کی اور بجٹ کی پیشکشی پر مبارکباد پیش کی۔
l اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی اسپیکر پرساد کمار نے بھٹی وکرامارکا کو بجٹ پیش کرنے کی اجازت دی۔ برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے میزیں تھپتھپاکر خیرمقدم کیا گیا۔
l قائد اپوزیشن کے چندر شیکھر راؤ ایوان میں غیر حاضر رہے۔ گذشتہ سال انہوں نے بجٹ کی پیشکشی کے موقع پر اجلاس میں شرکت کی تھی۔ جاریہ سال بجٹ سیشن کے آغاز پر دونوں ایوانوں سے گورنر جشنو دیو ورما کے خطاب کے موقع پر کے سی آر موجود تھے لیکن بجٹ کی پیشکشی کے وقت وہ غیرحاضر رہے۔
l بھٹی وکرامارکا کی تقریر کے دوران بی آر ایس اور برسر اقتدار پارٹی ارکان کے درمیان الفاظ کا تبادلہ جاری رہا۔ حکومت کے کارناموں کی پیشکشی کے وقت بی آر ایس ارکان ’جھوٹ۔ جھوٹ‘ کے نعرے لگارہے تھے جبکہ بجٹ تقریر میں جہاں کہیں سابق حکومت کی ناکامیوں کا ذکر کیا گیا کانگریس ارکان نے ’ شرم ۔ شرم ‘ کے نعرے لگائے۔
l بھٹی وکرامارکا نے تلگو میں 72 صفحات پر مشتمل بجٹ تقریر ایک گھنٹہ 45 منٹ میں مکمل کی۔ بجٹ تقریر کے اختتام کے ساتھ ہی وزراء اور ارکان اسمبلی نے بھٹی وکرامارکا کو مبارکباد پیش کی۔ سی پی آئی رکن سامبا سیوا راؤ نے بھی بھٹی وکرامارکا سے ملاقات کی۔
l اسپیکر پرساد کمار نے ایوان کی کارروائی جمعہ تک کیلئے ملتوی کردی۔1