تلنگانہ کی عزت نفس برائے فروخت نہیں، دہلی کے بروکرس کی سازش ناکام

,

   

مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ سے بڑھ کر کیا چاہیئے،حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش، منوگوڑ میں جلسہ عام سے چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب

حیدرآباد۔/30اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ تلنگانہ کی عزت نفس برائے فروخت نہیں ہے اور کوئی بھی طاقت عزت نفس کو خرید نہیں پائے گی۔ منوگوڑ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گذشتہ دنوں ٹی آر ایس کے 4 ارکان اسمبلی کو بھاری رقم کے لالچ کے ذریعہ خریدنے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی اور مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ارکان اسمبلی کی خریدی سازش میں ملوث بڑے چہروں کو بے نقاب کرنے کیلئے اس معاملہ کی تفصیلی جانچ کی جانی چاہیئے۔ چیف منسٹر نے پہلی مرتبہ ارکان اسمبلی خریدی معاملہ پر عوامی پلیٹ فارم پر تبصرہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے ان چاروں ارکان اسمبلی کو عوام کے روبرو تلنگانہ کے بہادر سپوتوں کے طور پر پیش کرتے ہوئے عوام سے تعارف کروایا۔ ارکان اسمبلی پائیلٹ روہت ریڈی ( تانڈور)، جی بالراجو ( اچم پیٹ )، ہرش وردھن ریڈی ( کولا پور ) اور آر کانتا راؤ ( پنا پاکا ) کے حق میں عوام نے زبردست تالیاں بجاتے ہوئے تائید کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دہلی کے بعض بروکرس نے تلنگانہ کی عزت نفس کو خریدنے کی کوشش کی اور گذشتہ دنوں ٹی آر ایس کے چار ارکان اسمبلی کو 100 کروڑ کا لالچ دے کر انحراف کیلئے اُکسایا گیا۔ تلنگانہ کے ان سپوتوں نے بائیں پیر کی چپل سے مار کر بروکرس سے کہا کہ سیاست کوئی خرید و فروخت کی شئے نہیں ہے، ہم تلنگانہ کے سپوت ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ چاروں ارکان اسمبلی نے تلنگانہ کی عزت نفس کو ہمالیہ کی چوٹی تک پہنچادیا ہے۔ خریدی معاملہ سے وزیراعظم مودی کو جوڑتے ہوئے چیف منسٹر نے سوال کیا کہ نریندر مودی کیوں اس طرح کے انحراف کی سیاست کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی مدد سے آر ایس ایس قائدین حیدرآباد پہنچے تاکہ تلنگانہ کی عزت نفس کو خرید سکیں لیکن وہ چنچل گوڑہ جیل پہنچ چکے ہیں۔ کے سی آر نے نریندر مودی سے سوال کیا کہ انہیں آخر اور کیا چاہیئے۔ ملک کے سب سے بڑے عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہیں اور عوام نے دو مرتبہ انہیں موقع دیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دو مرتبہ وزیر اعظم کے جلیل القدر عہدہ پر فائز رہنے کے باوجود نریندر مودی ملک میں غیر بی جے پی حکومتوں کو انحراف کے ذریعہ غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ منوگوڑ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران کے سی آر انتہائی جارحانہ موڈ میں تھے اور تقریر کے دوران بار بار عوام کی جانب سے زبردست تالیاں بجائی جارہی تھیں۔ چیف منسٹر نے عوام سے کہا کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ ملک کے موجودہ حالات اور سماج کو توڑنے کی کوششوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی اپنا ووٹ دیں۔ اگر ووٹ دینے میں غفلت کی گئی تو امن و سکون ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے ہینڈلوم ویورس سے کہا کہ بی جے پی کو ایک ووٹ بھی نہیں دینا چاہیئے کیونکہ ہینڈلوم پر جی ایس ٹی نافذ کیا گیا ہے۔ ویورس کو چاہیئے کہ وہ بی جے پی کو مناسب سبق سکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ منوگوڑ میں بی جے پی کی ضمانت بھی نہیں بچے گی۔ ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے ٹی آر ایس امیدوار کے حق میں ووٹ دیا جائے۔ کے سی آر نے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کی کامیابی کی صورت میں علاقہ کی ہمہ جہتی ترقی کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں کروڑ روپئے کی غیر قانونی رقومات کے ذریعہ ملک میں ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ کئی ریاستوں میں غیر بی جے پی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کیلئے بی جے پی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی خریدی کے معاملہ میں جو بھی افراد پس پردہ ملوث ہیں انہیں ایک لمحہ کیلئے بھی عہدہ پر برقراری کا حق نہیں ہے۔ آزادی کی 75 سالہ تاریخ میں اس قدر گھناؤنی سازش کو ہم نے نہیں دیکھا اور اس پر ہم کیسے خاموش رہیں گے۔ اگر ہم خاموش رہیں تو یہ ہمارے لئے عذاب بن جائے گا۔ انہوں نے منوگوڑ میں طلباء، دانشوروں، فنکاروں، ادیبوں اور سماج کے دیگر طبقات سے اپیل کی کہ وہ عوام کو باشعور بنانے میں اہم رول ادا کریں۔ جلسہ عام میں سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری سامبا سیوا راؤ، سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری ٹی ویرا بھدرم اور منوگوڑ میں انتخابی مہم میں مصروف ٹی آر ایس کے عوامی نمائندے اور قائدین موجود تھے۔ر