تلنگانہ کی فہرست رائے دہندگان سے 30 لاکھ سے زائد نقلی نام حذف: وکاس راج

   

صرف تعطیلات میں روڈ شو کی اجازت، ضابطہ اخلاق پر سختی سے نفاذ، ریاست میں13 مئی کو رائے دہی

حیدرآباد۔/19مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں لوک سبھا چناؤ کی تیاریوں کے تحت چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے سیاسی پارٹیوں اور رائے دہندوں کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے بتایا کہ 17 لوک سبھا نشستوں کے علاوہ سکندرآباد کنٹونمنٹ اسمبلی نشست کے ضمنی چناؤ کیلئے 13 مئی کو رائے دہی ہوگی اور 4 جون کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل آوری کی جائے گی اور رائے دہندوں میں بڑے پیمانے پر رائے دہی میں حصہ لینے کیلئے شعور بیداری مہم چلائی جارہی ہے۔ گذشتہ ڈھائی برسوں میں تلنگانہ میں تقریباً 30 لاکھ نقلی ووٹرس کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کئے گئے۔ گذشتہ سال فہرست رائے دہندگان سے 8.58 لاکھ نقلی اور بوگس نام حذف کئے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر نام گریٹر حیدرآباد اور ریاست کے شہری علاقوں سے ہیں۔ وکاس راج کے مطابق زیادہ تر رائے دہندوں نے رہائش کی تبدیلی کے بعد اپنے اڈریس کو اَپ ڈیٹ نہیں کیا جس کے نتیجہ میں ناموں کو حذف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کی منصفانہ تکمیل کیلئے فہرست رائے دہندگان سے نقلی ناموں کو حذف کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ نومبر 2023 میں اسمبلی انتخابات کے بعد سے 12.50 لاکھ نئے رائے دہندوں کے نام شامل کئے گئے جبکہ 8.58 لاکھ نام حذف کئے گئے۔ اس طرح فہرست میں تقریباً 4 لاکھ ناموں کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80 سال سے زائد عمر کے رائے دہندوں کو گھر پر رائے دہی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ سابق میں یہ سہولت 85 سال سے زائد عمر کے رائے دہندوں کو حاصل تھی۔40 فیصد تک معذور افراد کو بھی گھر پر رائے دہی کی سہولت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 80 سال سے زائد عمر کے رائے دہندوں کی تعداد 194082 درج کی گئی ہے جبکہ معذور رائے دہندے526340 ہیں۔ یہ رائے دہندے 22 اپریل تک گھر پر رائے دہی کی سہولت کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ پرچہ جات نامزدگی سے دستبرداری کی آخری تاریخ کے تین تا چار دنوں میں یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ وکاس راج نے کہا کہ مرکزی مسلح افواج کی 145 کمپنیوں کے علاوہ 60 ہزار ملازمین پولیس کو الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے گا۔ انتخابی مہم میں دولت، شراب اور منشیات کی منتقلی اور استعمال کو روکنے کیلئے سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بغیر جائز دستاویزی ثبوت کے 50 ہزار سے زائد کی رقم یا قیمتی اشیاء اپنے ساتھ نہ رکھیں۔ روڈ شو کی صرف تعطیلات میں اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرہجوم علاقوں میں روڈ شوز پر پابندی رہے گی۔ انتخابی مہم میں بچوں کی شمولیت پر پابندی رہے گی۔ سیاسی پارٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ سویدھا ایپ کے ذریعہ ریالیوں اور جلسوں کی اجازت حاصل کریں۔ ریاست بھر میں 35356 پولنگ اسٹیشن ہیں جن میں 14379 شہری اور 20877 دیہی علاقوں میں قائم ہیں۔ خواتین کی جانب سے زیر انتظام پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 597 ہے۔ ماڈل پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 644 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 35 ہزار 356 پولنگ اسٹیشنوں کیلئے 57048 بیالٹ یونٹس اور 44569 کنٹرول یونٹس کی ضرورت رہے گی۔ رائے دہی کے سلسلہ میں 1.80 لاکھ انتخابی عملے کی خدمات حاصل کی جائیں گی جن میں 46403 پریسائیڈنگ آفیسرس، 46403 پولنگ آفیسرسI ، 92806 پولنگ آفیسرسII رہیں گے۔ 40 ہزار بوتھ سطح کے عہدیداروں کے علاوہ 7169 مائیکرو آبزرورس کو متعین کیا جارہا ہے۔ ریاست میں جملہ رائے دہندے 3 کروڑ 30 لاکھ 88 ہیں جن میں مرد رائے دہندے 16410227 جبکہ خاتون رائے دہندے 16587134 ہیں۔1