16 بینکوں سے معاہدہ، ہیلت اسکیم کیلئے 240 کروڑ مختص، اسمبلی میں بھٹی وکرمارکا کا بیان
حیدرآباد۔10۔ستمبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ سرکاری ملازمین کیلئے ایک کروڑ کا حادثاتی بیمہ ملک کیلئے مثالی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے سرکاری ملازمین ، پنشنرس ، کنٹراکٹ ، آؤٹ سورسنگ ملازمین کو ایکسیڈنٹ انشورنس کے دائرہ کار میں شامل کیا ہے۔ اسکیم سے 12.91 لاکھ ملازمین اور پنشنرس کو فائدہ ہوگا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ملازمین کی بھلائی کے اقدامات پر تفصیلات پیش کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے ایکسیڈنٹ انشورنس اسکیم کے ذریعہ ملک کی دیگر ریاستوں کے لئے مثال قائم کی ہے۔ کئی ریاستوں حتیٰ کہ مرکزی حکومت نے بھی اسکیم کے بارے تفصیلات حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 16 بینکوں سے معاہدہ کے ذریعہ اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔ اسکیم کے تحت حادثاتی طورپر موت کی صورت میں افراد خاندان کو ایک کروڑ کا انشورنس دیا جائے گا۔ دیگر سہولتوں کو ملاکر جملہ 1.20 کروڑ ادا کئے جائیں گے۔ طیارہ کے حادثہ میں موت کی صورت میں دو کروڑ انشورنس ادا کیا جائے گا۔ طبعی موت کی صورت میں 10 لاکھ روپئے تک حاصل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک 98 کلیمس کی یکسوئی کی گئی ہے۔ سنگارینی کالریز میں 50 کلیمس کی یکسوئی کردی گئی۔ محکمہ برقی میں 15 کلیمس کو حل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی جانب سے داخل کردہ 33 کلیمس میں 24 کی یکسوئی کردی گئی۔ حادثاتی انشورنس اسکیم میں برقی ملازمین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کیلئے 25 جون 2026 سے انشورنس اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین ، پنشنرس اور ان کے افراد خاندان کے علاج سے متعلق ہیلت کارڈ اسکیم پر حکومت نے 240 کروڑ مختص کئے ہیں۔ 1/k/m/b