تلنگانہ کے بی جے پی قائد کو اترپردیش سے راجیہ سبھا رکن بنانے کا جائزہ

   

سینئیر قائدین کے ساتھ ساتھ مشہور صنعتکار جوپلی رامیشور راؤ کے نام پر بھی غور
حیدرآباد ۔ 24 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : بی جے پی کی قومی قیادت تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے تلنگانہ سے کسی بی جے پی قائد کو اترپردیش سے راجیہ سبھا کے لیے نامزد کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ تلنگانہ میں تشکیل حکومت کے منصوبہ پر کام کرنے والی بی جے پی تلنگانہ کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کوئی بھی موقع گنوانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ہر مسئلہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے ۔ 10 دن قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپنے دورے حیدرآباد کے دوران شہر کی ایک ہوٹل میں بی جے پی کور کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کرتے ہوئے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ بی جے پی قائدین کو ٹی آر ایس حکومت کے خلاف چلائی جانے والی مہم میں مکمل تعاون کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی 26 مئی کو حیدرآباد کے دورے پر آرہے ہیں ۔ ان کے ساتھ بھی بی جے پی کے قائدین کی ملاقات کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ پہلے سے طئے شدہ پروگرام کے تحت وزیراعظم ہیلی کاپٹر سے انڈین اسکول آف بزنس کی تقاریب میں شرکت کریں گے ۔ مگر بی جے پی کے قائدین انہیں روڈ شو کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ سیاسی فائدہ اٹھا سکے ۔ واضح رہے کہ تاملناڈو اور کیرالا میں بی جے پی کو مستحکم کرنے دوسری ریاستوں سے یہاں کے قائدین کو نہ صرف راجیہ سبھا کا رکن بنایا گیا بلکہ انہیں مرکزی وزارت میں بھی شامل کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ بی جے پی کے قائدین این اندر سین ریڈی ، مرلیدھر راؤ ، ڈاکٹر کے لکشمن ، سابق ارکان پارلیمنٹ وجئے شانتی ، جی ویویک ، جتندر ریڈی کے علاوہ مزید دوسرے ناموں کے ساتھ مشہور صنعتکار جوپلی رامیشور راؤ کے نام پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔ ان میں سے کسی ایک کو اترپردیش سے راجیہ سبھا کے لیے نامزد کرنے کا امکان ہے ۔۔ ن