خانگی اسکولس میں فیس میں اضافہ ، اولیائے طلباء کو مشکلات ، اے مرلی کا بس یاترا کے دوران خطاب
حیدرآباد۔25۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ سرکاری اسکولوں میں سہولتوں کی عدم موجودگی اور خانگی اسکولوں میں فیس کے اضافہ کے نتیجہ میں پیدا شدہ صورتحال کے نتیجہ میں اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تلنگانہ پیپلز فرنٹ کی بس یاترا کے دوران سابق صدرنشین تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن مسٹر اے مرلی نے سرکاری اسکولوں کی ابتر صورتحال کوتشویشناک قرار دیا اور کہا کہ سرکاری اسکولوں میں سہولتیں نہ ہونے کے سبب والدین و سرپرست ان اسکولوں میں اپنے بچوں کو داخلہ دلوانے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ خانگی اسکولوں میں فیس میں ہونے والے بے تحاشہ اضافہ کے سبب خانگی اسکولوں میں داخلہ دلوانے میں بھی مشکل صورتحال کا شکار ہونے لگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 3 سال کے دوران اسکولوں میں سہولتوں کو بہتر بنانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جو کہ شرمناک بات ہے۔ بس یاترا جو کہ ریاست بھر میں سرکاری اسکولوں کی حالت کے علاوہ اسکولوں کے انتظامیہ سے ملاقات اور شعبہ تعلیم میں بہتری لانے کے لئے مشاورت کر رہی ہے نے اپنے آغاز کے بعد سے اب تک بیشتر اضلاع کا دورہ مکمل کرلیا ہے اور آئندہ چند یوم کے دوران مابقی اضلاع کا دورہ مکمل کرتے ہوئے جامع رپورٹ تیار کی جائے گی اور عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔مسٹر اے مرلی سابق آئی اے ایس نے بتایا کہ عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے اطراف موجود سرکاری اسکولوں کا مشاہدہ کریں تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ ان میں گذشتہ 3برسوں کے دوران کوئی تبدیلی یا ترقی نہیں آئی اگر کہیں کوئی تبدیلی نظر آرہی ہے تو معمولی ترقیاتی کام نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے ریاست میں موجود کارپوریٹ نظام تعلیم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدرنشین تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن کی حیثیت سے جو رپورٹ پیش کرنی تھی پیش کردی ہے اور اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس رپورٹ پر عمل آوری کو یقینی بنائے ۔12 روزہ بس یاترا کے دوران سابق آئی اے ایس عہدیدار مسٹر ایم وی ریڈی نے بتایا کہ تلنگانہ میں عوامی نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے اقدامات ضروری ہیں اور توقع کی جارہی تھی کہ ریاست میں حکومت کی جانب سے تعلیم کو عام کرنے اور نونہالوں کو اسکولوں سے جوڑنے کے لئے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کارپوریٹ اسکولوں کے ذمہ داروں اور انتظامیہ کی جانب سے فیس میں کئے جانے والے من مانی اضافہ کو روکتے ہوئے تعلیم کو عام کیا جاسکتا ہے لیکن ریاست میں حکومت کی عدم توجہی کے سبب تعلیمی نظام تجارت میں تبدیل ہونے لگا ہے۔3/m/b