نارسنگی اور سیف آباد پولیس اسٹیشنوں میں درج مقدمات کالعدم
حیدرآباد۔/19 مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی کو تلنگانہ ہائی کورٹ میں آج راحت ملی جب عدالت نے ان کے خلاف 2020 میں درج مقدمہ کو کالعدم کردیا۔ جنواڑہ میں مارچ 2020 میں ریونت ریڈی نے پارٹی قائدین کے ساتھ کے ٹی آر کے فارم ہاوز کا دورہ کیا تھا اور وہاں ڈرون کے ذریعہ فلمبندی کی گئی تھی۔ ڈرون کے استعمال اور بلااجازت دورہ پر نارسنگی پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ نارسنگی پولیس نے ریونت ریڈی کو گرفتار کرتے ہوئے جیل بھیج دیا تھا۔ ریونت ریڈی نے نارسنگی پولیس کے کیس کو کالعدم قرار دینے کیلئے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ ریونت ریڈی کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ جنواڑہ کوئی امتناعی علاقہ نہیں ہے جہاں دورہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ریونت ریڈی کے خلاف بے بنیاد مقدمہ درج کرنے کی شکایت کی۔ ریونت ریڈی کے وکلاء نے کہا کہ مقدمہ میں جن دفعات کا استعمال کیا گیا ہے ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس معاملہ میں ریونت ریڈی 18 دن تک جیل میں رہ چکے ہیں۔ فریقین کی سماعت کے بعد عدالت نے نارسنگی پولیس اسٹیشن میں ریونت ریڈی کے خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم کردیا۔ دوسری طرف تلنگانہ ہائی کورٹ سے آج بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کو بھی راحت ملی۔ عدالت نے سیف آباد پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف درج مقدمہ کو کالعدم کردیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کی شکایت پر رکن راجیہ سبھا انیل کمار یادو نے سیف آباد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی تھی جس پر مقدمہ درج کیا گیا۔ کے ٹی آر مقدمہ کو کالعدم کرنے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ کے ٹی آر نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے اور چیف منسٹر کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس کئے گئے۔ کے ٹی آر کے وکیل نے کہا کہ سیاسی انتقامی کارروائی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ہائی کورٹ نے فریقین کی سماعت کے بعد ایف آئی آر کو کالعدم کردیا۔