ڈرون کے استعمال پر درج ایف آئی آر پر حکم التواء
حیدرآباد۔/13 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے میڈی گڈہ بیاریج کے دورہ کے موقع پر ڈرون سے فلمبندی کے مسئلہ پر دائر کردہ مقدمہ میں بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ اور دو سابق ارکان اسمبلی کو راحت دی ہے۔ ہائی کورٹ نے پولیس کی جانب سے درج کردہ ایف آئی آر پر حکم التواء جاری کرتے ہوئے ریاستی حکومت اور پولیس میں شکایت کنندہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بی آر ایس قائدین کی پٹیشن پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کے ٹی راما راؤ، بی سمن اور جی وینکٹ رمنا ریڈی نے مقدمہ کے خلاف عدالت سے رجوع ہوکر ایف آئی آر کو کالعدم کرنے کی درخواست کی میڈی گڈہ بیاریج کے دورہ کے موقع پر ڈرون کے استعمال کے بارے میں پولیس میں کی گئی شکایت کو نامکمل اور میٹریل کے بغیر قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے حکم التواء جاری کیا۔ محکمہ آبپاشی کے انجینئر نے پولیس میں شکایت درج کی تھی کہ 26 جولائی کو بی آر ایس قائدین نے میڈی گڈہ بیاریج کے دورہ کے موقع پر ڈرون کے ذریعہ فلمبندی کی۔ بی آر ایس قائدین نے پولیس کے مقدمہ کو سیاسی انتقامی کارروائی سے تعبیر کیا۔ بی آر ایس قائدین کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ رمنا راؤ نے کہا کہ ریاستی حکومت میڈی گڈہ بیاریج سے پانی کی عدم اجرائی کے ذریعہ کسانوں کیلئے خریف سیزن میں مصنوعی قلت پیدا کررہی ہے جبکہ یہ پراجکٹ کالیشورم کا حصہ ہے۔ بی آر ایس قائدین عوام کو حقائق سے واقف کرانے کیلئے روانہ ہوئے کیونکہ کانگریس کی جانب سے ڈیم کے بارے میں گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔ درخواست گذار کا پولیس شکایت میں پیش کردہ ویژولس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جسٹس کے لکشمن نے درخواست گذاروں کے وکیل کی سماعت کے بعد کہا کہ ایف آئی آر میں جو مواد پیش کیا گیا ہے وہ نامکمل ہے۔ اس مقدمہ کی آئندہ سماعت 5 ستمبر کو ہوگی۔1