تلگو ریاستوں میں بی جے پی کو حلیفوں کی تلاش

   

تلنگانہ قائدین تنہا مقابلہ کے حق میں، فروری کے بعد عام جلسے
حیدرآباد۔13۔ جنوری (سیاست نیوز) تلگو ریاستوں میں قدم جمانے بی جے پی کو حلیف جماعتوں کی تلاش ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قومی قیادت نے آندھراپردیش میں انتخابی مفاہمت کیلئے تلگو دیشم و جنا سینا سے مذاکرات کا فیصلہ کیا جبکہ تلنگانہ میں مفاہمت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پارٹی تلنگانہ انچارج ترون چگ کے حوالے سے میڈیا میں یہ خبریں پھیلائی گئیں کہ تلنگانہ میں تلگو دیشم سے مفاہمت کی جائیگی۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ بی جے پی قائدین مفاہمت کے حق میں نہیں ہیں اور وہ تنہا مقابلہ چاہتے ہیں۔ قائدین نے واضح کردیا کہ پارٹی اگر چاہے تو آندھراپردیش میں مفاہمت کرسکتی ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کا موقف مستحکم ہے ، لہذا تلگو دیشم سے مفاہمت کی ضرورت نہیں ۔ اسی دوران بی جے پی کے سینئر لیڈر اندرسین ریڈی نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی تلنگانہ میں تنہا مقابلہ کریگی۔ بی آر ایس کو گھر واپس بھیجنے بی جے پی کافی ہے اور عوام اس کی مدد کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں اقتدار کے حصول کے علاوہ لوک سبھا کی 12 نشستوں پر زعفرانی پرچم لہرائیگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں بی آر ایس اور کانگریس سے کئی قائدین بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وائی ایس آر تلنگانہ کے مضبوط ہونے سے بی آر ایس و کانگریس ووٹ بینک میں کمی آئیگی جس کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ بتایا گیا کہ بی جے پی قیادت نے تلنگانہ میں شرمیلا کی سرگرمیوں کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ فروری کے بعد بی جے پی اسمبلی اور منڈل سطح پر 11 ہزار جلسوں کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ جلسوں میں مرکزی وزراء شرکت کریں گے۔ر