جگن موہن ریڈی نے دستخط کردیئے، دونوں ریاستوں کے سینکڑوں ملازمین کو راحت
حیدرآباد۔/11 ستمبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد سرکاری ملازمین دونوں ریاستوں کے درمیان باہمی تبادلوں کی اجازت کا مطالبہ کررہے تھے۔ طویل جدوجہد کے بعد آخر کار آندھرا پردیش حکومت نے تلگو ریاستوں کے ملازمین کے باہمی تبادلوں کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت تلنگانہ کے ملازمین آندھرا پردیش اور آندھرا پردیش کے تلنگانہ میں خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ تنظیم جدید قانون کے تحت ملازمین کی تقسیم عمل میں آئی لیکن کئی ایسے ملازمین ہیں جو دوسری ریاست میں خدمات انجام دینے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ ان کے خاندانی روابط وہاں زیادہ ہیں۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے ملازمین کے تبادلوں سے اتفاق کیا۔ باہم تبادلوں کیلئے حاصل ہونے والی درخواستوں کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں حکومتیں اعلامیہ جاری کریں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کے 1338 ملازمین آندھرا پردیش میں جبکہ آندھرا پردیش کے 1804 ملازمین تلنگانہ میں تبادلہ کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں متعلقہ محکمہ جات کو درخواست داخل کی ہے۔ آندھرا پردیش کے جی اے ڈی نے ملازمین کے تبادلوں کی فائیل چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کو روانہ کی جنہوں نے اسے منظوری دے دی۔ یہ فائیل تلنگانہ حکومت کو روانہ کی جائے گی۔ تلنگانہ حکومت کی منظوری کے بعد شرائط و ضوابط طئے کئے جائیں گے اس کے بعد تبادلوں کا عمل شروع ہوگا۔ آندھرا پردیش حکومت نے تبادلہ کے خواہاں ملازمین کو این او سی جاری کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ ٹیچرس اور دیگر زمرہ جات کیلئے ایک ہی ریاست میں کم از کم 8 سالہ خدمات کی شرط رکھی جائے گی۔ اسی دوران آندھرا پردیش سرکاری ملازمین کی فیڈریشن نے جگن موہن ریڈی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ ملازمین کے دیرینہ مطالبہ کی تکمیل ہوئی ہے۔ر