تلگودیشم برسراقتدار آنے پر 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل : نائیڈو

   

جگن دور حکومت میں مسلمانوں سے ناانصافی، نیلور میں مسلمانوں سے خطاب
حیدرآباد۔/28 اپریل، ( سیاست نیوز) صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو نے دعویٰ کیا کہ تلگودیشم دور حکومت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے انصاف کیا گیا جبکہ جگن موہن ریڈی حکومت میں مسلمانوں پر حملے اور ناانصافی میں اضافہ ہوا ہے۔ نائیڈو آج نیلور میں مسلمانوں کے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ تلگودیشم کی انتخابی مہم کے تحت انہوں نے اقلیتوں کی تائید حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم نے ہمیشہ تمام طبقات سے انصاف کرکے بہتر حکمرانی کی مثال قائم کی ہے جبکہ جگن دور حکومت میں سرکاری خزانہ کو لوٹنے اور شخصی مفادات کی تکمیل کو ترجیح دی گئی۔چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ تلگودیشم دور میں حیدرآباد میں اردو یونیورسٹی قائم کی گئی۔ عالیشان حج ہاوز تعمیر کرکے عازمین حج کیلئے موثر انتظامات کئے گئے۔ کڑپہ اور وجئے واڑہ میں حج ہاوز کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 8 کروڑ روپئے سے شادی منزل نیلور میں تعمیر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس حکومت میں ایک بھی عمارت تعمیر نہیں کی گئی۔ مسلمانوں کو 10 کروڑ الاٹ کرکے 100 کروڑ روپئے ہڑپ لئے گئے ۔ نائیڈو نے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور غریب افراد پریشان ہیں۔ تلگودیشم دور حکومت میں قیمتوں پر قابو پایا گیا۔ تلگودیشم حکومت میں اے پی جے عبدالکلام پروفیشنل ٹریننگ سنٹر قائم کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وائی ایس آر کانگریس دور میں مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مسلمانوں سے مسلسل ناانصافی کی جارہی ہے۔ نائیڈو نے تلگودیشم برسراقتدار آنے پر 4 فیصد مسلم تحفظات پر موثر عمل آوری اور اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کا وعدہ کیا۔1