تمل ناڈو کیس میں کیرالا کا معاملہ شامل نہیں

   

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ تمل ناڈو کے گورنر کی طرف سے بلوں کو منظوری دینے میں تاخیر سے متعلق سپریم کورٹ کے 8 اپریل 2025 کے فیصلے میں کیرالا کا معاملہ شامل نہیں ہے ۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جویمالیہ باگچی پر مشتمل بنچ کے سامنے حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے تمل ناڈو کے فیصلے کا مطالعہ کرنے کے لیے وقت مانگا اور کہا کہ یہ (تمل ناڈو کیس) کیرالا کیس سے مختلف ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے 8 اپریل 2025 کے فیصلے میں تمل ناڈو کے گورنر کی طرف سے بلوں کی منظوری میں تاخیر پر کئی سوالات اٹھائے تھے ۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی نے یہ بھی کہا کہ تمل ناڈو کے فیصلے میں حقائق پر مبنی موجودہ کیس (کیرالا) کے کچھ مسائل کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان اختلافات کی نشاندہی کرنا چاہیں گے ۔ کیرالا حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کے کے وینوگوپال نے شروع میں کہا کہ کیرالا کیس تمل ناڈو کیس کے حالیہ فیصلے کے تحت آتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ صدر جمہوریہ سے رجوع کرنے کی مدت کیا ہے ، جسے تین ماہ تک رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکزی حکومت کے جاری کردہ سرکلر کے مطابق ہے ۔ بنچ نے پھر وینوگوپال سے پوچھا کہ وہ کیا تجویز کرتے ہیں اور کیا وہ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں کیونکہ وہ فیصلہ موجود ہے ۔

سالیسٹر جنرل مہتا نے اس فیصلے کے سوال پر کہا کہ وہ فیصلے کی جانچ کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے کچھ وقت دیا جا سکتا ہے ۔
مسٹر وینوگوپال نے پھر کہا کہ سالیسٹر جنرل کو واضح کرنا ہوگا کہ آیا یہ براہ راست شامل ہے یا نہیں ؟
اس پر مسٹر مہتا نے کہا کہ یہ معاملہ شامل نہیں ہے ۔