تنازعہ کے حل کیلئے لبنانی فورسزکی دوبارہ تعیناتی ضروری : امن فورس

   

نیویارک : اقوام متحدہ کی امن فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ لبنانی فورسز کی دوبارہ تعیناتی، حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک سال سے زیادہ عرصہ سے جاری جھڑپوں کے کسی بھی حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان جھڑپوں کا آغاز ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے اسرائیل پر حماس کے جنگجوؤں کے اچانک اور بڑے حملے کے بعد ہوا تھا۔ حماس کی اس کارروائی نے غزہ میں ایک بڑی اور مہلک جنگ کو جنم دیا جس میں ہزاروں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ خطہ میں امن قائم رکھنے کیلئے اقوام متحدہ کی امن فوج کے دستے لبنان کے جنوبی حصے میں تعینات ہیں۔ اپنے تین روزہ دورے کے اختتام پر بیروت میں ایک بریفنگ کے دوران امن سے متعلق کارروائیوں کیلئے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جین پیئر لاکرویکس نے صحافیوں کو بتایا کہ کسی بھی پائیدار حل کیلئے لبنانی مسلح افواج کی دوبارہ تعیناتی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ ماہ اے ایف پی کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے کہا تھا کہ ان کا ملک جنوب میں اپنی فوج کی موجودگی کو ساڑھے چار ہزار سے بڑھا کر کم از کم ساڑھے گیارہ ہزار تک لے جانے کیلئے تیار ہے۔ لاکرویکس نے کہا کہ اقوام متحدہ لبنانی حکام کے بھرتیوں اور تربیت میں اضافہ کے پروگراموں کے ساتھ پیش رفت کرنے اور لبنان کی مسلح افواج کی تیاری کی سطح کو بلند کرنے کے عزم کو سراہتا ہے۔ لبنان کو اسرائیل سے الگ کرنے والی بلیو لائن کی نگرانی کا آغاز 1978 میں کیا گیاتھا جس میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے، جسے یو این آئی ایف آئی ایل کہا جاتا ہے، 9003 سے زیادہ فوجی لبنان میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جو حزب اللہ اسرائیل کی لڑائیوں کے دوران حملوں کی زد میں آئے۔