تنزانیہ: بیویوں کی کرکٹ ٹیم، بچوں کا کالج، پوتوں کی فوج … ایک شخص نے گاؤں بسا لیا

   

16 بیویاں، 104 بچے اور 144 پوتے ۔تنزانیہ کے شخص نے اپنی زندگی کی داستان بیان کر دی

دودوما(تنزانیہ) : دنیا بھر میں بڑھتی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے زیادہ تر لوگ محدود خاندان رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو بڑے خاندان کے قائل ہوتے ہیں۔ تنزانیہ کے ایک شخص نے اپنے خاندان کو بڑھانے کا ایسا شوق اپنایا کہ اس نے 20 شادیاں کر ڈالیں، جس کے نتیجے میں اس کے 104 بچے اور 144 پوتے پوتیاں ہیں۔تنزانیہ کے زومبے نامی ایک چھوٹے سے گاؤں کے مازی ایرنیسٹو میونوچی کے مطابق ان کے والد کی ہمیشہ خواہش تھی کہ ان کا خاندان بڑا ہو۔ ان کے والد کا کہنا تھا کہ ایک بیوی کافی نہیں ہوتی، اور یہی سوچ رکھتے ہوئے انہوں نے اپنے بیٹے کی ابتدائی پانچ شادیاں خود کروائیں۔ ان شادیوں کے لیے انہیں جہیز بھی دینا پڑا، جبکہ باقی 15 شادیاں خود مازی ایرنیسٹو نے کیں۔میونوچی نے اپنی تمام بیویوں کے لیے الگ الگ گھروں کا انتظام کر رکھا ہے، جبکہ ان کے خاندان کے تمام افراد اپنی روزی خود کماتے ہیں۔ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری صرف میونوچی پر نہیں بلکہ ہر فرد اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرتا ہے۔اتنے بڑے خاندان کی کفالت کے لیے یہ لوگ کھیتی باڑی پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ کیلے، مکئی اور پھلیاں کاشت کرتے ہیں، اور یہی ان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔میونوچی نے بتایا کہ اتنے بڑے خاندان کے ساتھ معاملات سنبھالنا آسان نہیں ہوتا۔ اگر گھر میں کوئی جھگڑا ہو بھی جائے تو خواتین ہی اسے حل کرتی ہیں، اور اگر معاملہ بڑھ جائے تو وہ اس میں مداخلت کرتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ اپنے تمام بچوں اور پوتے پوتیوں کے نام یاد نہیں رکھ سکتے۔ ان کا کہنا تھا، “مجھے تقریباً 50 بچوں کے نام یاد ہیں، لیکن باقی کو میں صرف ان کے چہروں سے پہچانتا ہوں۔