تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے دنیا پر منفی اثرات کا اندیشہ

,

   

:اوپیک کا پیداوار کم کرنے کا فیصلہ:

پیرس : تیل کی پیداوار اور برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کو روکنے کے لیے اپنی پیداوار کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی حالات کے باعث مسائل میں گھرے ممالک کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے سے امریکہ میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جہاں آئندہ ماہ وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس کے باعث ماہرین کے مطابق امریکہ پر سیاسی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ چہارشنبہ کو اوپیک میں شامل ممالک کے وزرائے توانائی کا اجلاس ویانا میں ہوا تھا جس میں یومیہ 20 لاکھ بیرل پیداوار کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کرونا وائرس کے آغاز کے بعد تنظیم میں شامل ممالک کے وزرا کا یہ پہلا روبرو اجلاس تھا۔ امریکہ اور مغربی ممالک نے تنظیم کے اس فیصلے کو کوتاہ نظری قرار دیا ہے جب کہ تنظیم نے اپنے فیصلے کے دفاع میں کہا ہے کہ عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں میں پائی جانے والی غیر یقینی کی کیفیت ختم کرنے کے لیے پیداوار میں کٹوتی کی جارہی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں اقتصادی بحران، شرحِ سود میں اضافہ اور روس یوکرین جنگ کے باعث توانائی کی رسد و طلب میں پائی جانے والی بے یقینی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آرہی تھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی کساد بازاری، امریکہ میں شرحِ سود میں اضافہ اور ڈالر کی بڑھتی قدر کے باعث تین ماہ کے دوران خام تیل کی قیمت 120 ڈالر سے 90 ڈالر فی بیرل پر آگئی تھی۔ اوپیک کے فیصلے کے بعد جمعرات ہی کو عالمی سطح پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی فی بیرل قیمتوں میں ایک فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کیمزید اوپر جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اوپیک کے اس فیصلے سے روس کو فائدہ ہوگا جسے یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے تیل اور توانائی کی برآمدات پر پابندی کا سامنا ہے۔