ثقافتی یکسانیت کے نظریہ کے خلاف ٹاملناڈو سے بی جے پی کو سخت مزاحمت

   

چندرابابو نائیڈو بھی ہندی کو مسلط کرنے کے خلاف، اورنگ زیب اور تعلیمی پالیسی کے ذریعہ ہندوتوا طاقتیں ملک میں سرگرم، مودی کی مخلوط حکومت کی مشکلات

حیدرآباد 23 مارچ (سیاست نیوز) بی جے پی کو ملک میں ثقافتی یکسانیت کے فروغ کے معاملہ میں ٹاملناڈو سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ بی جے پی اور ہندوتوا طاقتیں ملک میں ایک طرف اورنگ زیب کے مقبرے اور دوسری طرف نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ مخصوص نظریات کو سماج پر مسلط کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مہاراشٹرا میں اورنگ زیب کی مزار کو منہدم کرنے کا معاملہ فرقہ وارانہ تشدد کا رُخ اختیار کرچکا ہے جبکہ نئی تعلیمی پالیسی کی جنوبی ریاستوں کی جانب سے شدت سے مخالفت کی جارہی ہے کیوں کہ نئی پالیسی کا مقصد غیر ہندی ریاستوں پر ہندی زبان کو مسلط کرنا ہے۔ گزشتہ 10 برسوں میں بی جے پی کو ہندوتوا طاقتوں کی مدد سے ملک پر اپنے نظریات کو مسلط کرنے میں کسی قدر کامیابی ضرور حاصل ہوئی لیکن موجودہ حالات میں جنوبی ریاستوں کی جانب سے بڑھتی مخالفت سے سنگھ پریوار کے حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی منصوبہ بندی دراصل قومی یکجہتی کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ایسے میں بی جے پی نے بیک وقت دو محاذوں پر عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملک میں ہندو اکثریت کے غلبہ کو ثابت کرنے میں بھلے ہی بی جے پی کسی قدر کامیاب رہی ہو لیکن کشمیر سے کنیا کماری تک اِس نظریہ کو مسلط کرنا آسان نہیں رہے گا۔ ملک ایک کثرت میں وحدت والا نظریہ رکھتا ہے اور مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے ماننے والے اپنی اپنی زبانوں اور تہذیبوں کے تحفظ کے حق میں سنجیدہ بھی ہیں۔ بی جے پی کو شاید جموں و کشمیر میں خصوصی موقف کی برخاستگی سے کسی قدر حوصلہ ملا ہو کیوں کہ خصوصی موقف کی برخاستگی پر کشمیری عوام کی جانب سے جس قدر مخالفت کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا وہ غلط ثابت ہوا۔ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں لہذا بی جے پی کو یقین ہے کہ ٹاملناڈو کی جانب سے نئی تعلیمی پالیسی کی مخالفت بھی دیرپا ثابت نہیں ہوگی۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے نئی تعلیمی پالیسی کے علاوہ لوک سبھا حلقہ جات کی ازسرنو حدبندی کے کے خلاف جنوبی ریاستوں کی سیاسی پارٹیوں کو متحد کرنے کی مساعی کی ہے۔ حلقہ جات کی حد بندی کے مسئلہ پر کل جماعتی اجلاس منعقد ہوا جس میں تلنگانہ، کیرالا اور پنجاب کے چیف منسٹرس نے شرکت کی جبکہ دیگر ریاستوں سے اہم سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے شرکت کرتے ہوئے ازسرنو حد بندی کی متحدہ طور پر مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹاملناڈو سے مرکز کی مخالفت میں چھیڑی گئی مہم یقینا رنگ لائے گی اور بی جے پی کیلئے نئی تعلیمی پالیسی کو ملک پر مسلط کرنا آسان نہیں رہے گا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی مرکز میں مخلوط حکومت کی قیادت کررہی ہے اور حکومت کی تائید کرنے والی پارٹیوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کی تائید نہیں کرسکتے۔ مخلوط حکومت کی پابندیوں کے تحت بی جے پی حلیف پارٹیوں کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔ تلگودیشم اور جنتادل (یونائیٹیڈ) کی قیادتوں نے اتحاد کے وقت ہی بی جے پی پر واضح کردیا تھا کہ ملک میں حساس اور فرقہ وارانہ نوعیت کے مسائل پر وہ حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ دیکھنا یہ ہے کہ تلگودیشم اور جنتادل یونائیٹیڈ نئی تعلیمی پالیسی اور لوک سبھا حلقہ جات کی حدبندی پر کیا موقف اختیار کریں گے۔ صدر تلگودیشم این چندرابابو نائیڈو نے گزشتہ دنوں یہ کہتے ہوئے نئی تعلیمی پالیسی پر سوال کھڑے کردیئے کہ کسی بھی علاقہ پر مخصوص زبان کو مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہندی زبان کو سیکھنے سے شمالی ریاستوں میں عوام سے بہتر رابطہ میں مدد مل سکتی ہے لیکن کسی بھی ریاست کے باشندوں کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنی مادری زبان پر ہندی کو ترجیح دیں۔ چندرابابو نائیڈو کے اِس موقف سے اِس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ نریندر مودی حکومت نئی تعلیمی پالیسی پر اصرار نہیں کرے گی۔ 1