ممبئی: مراٹھا برادری کی جانب سے مراٹھا ریزرویشن کے لئے کی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والی مہاراشٹرا حکومت نے آج یہاں مراٹھا ریزرویشن تحریک اور اسکے رہنما جارنگے پاٹل کی جانب سے کئے جانے والے احتجاج کی ایس آئی ٹی جانچ کا حکم جاری کیا۔ریاستی اسمبلی کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر راہول نارویکر نے سات ماہ تک جاری رہنے والے مراٹھا احتجاج اور شیوبا سنگھٹن کے لیڈر منوج جارنگے پاٹل کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کیلئے ایک خصوصی تحقیقاتی دستہ (ایس آئ ٹی ) تشکیل دئے جانے کا حکم جاری کیایہ خصوصی دستہ محکمہ پولیس اور دیگر محکموں کے افسران پر مشتمل ہوگا جو اس پوری تحریک کے مختلف پہلووں کی تحقیقات کریگایہ معاملہ آج صبح اسمبلی اجلاس کے دوران اٹھایا گیا اور اس معاملے پر گرما گرم بحث کے بعد اسپیکر نے اس سارے معاملے کی ایس آئی ٹی جانچ کا حکم دیا، اس دوران بی جے پی کے رکن اسمبلی آشیش شیلار اور دیگر اراکین نے جارنگے پاٹل کا نارکو ٹیسٹ کرانے اور انکی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا جسے اسپیکر نے مسترد کر دیاشیلار نے اگست 2023 جاری اس تحریک کے دوران ہوئے مظاہروں، ریلیوں، روڈ بلاک ، ریاست کے مختلف حصوں میں تشدد، کے واقعات مختلف قانون سازوں اور سیاسی رہنماؤں کے گھروں کو نذرآتش کرنے ، آتشزنی کے واقعات وغیرہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے ، وزیراعلی ایکناتھ شندے نے کہا کہ حکومت نے متفقہ طور پر ملازمتوں اور تعلیم میں 10 فیصد مراٹھا کوٹہ دیا ہے جسے عدالتیں بھی تسلیم کریگی کیونکہ یہ آئنی طور پر منظور کیا گیا ہے نیز جرنگے پاٹل نے بھی اسکی تعریف کی۔”سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ مراٹھا پسماندہ نہیں ہیں، لیکن مہاراشٹرا اسٹیٹ بیک ورڈ کلاس کمیشن (MSBCC) نے ایک بڑے پیمانے پر سروے کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ برادری سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہے ۔ شندے نے اعلان کیا کہ ہم نے جو تحفظات دیے ہیں وہ کسی دوسری کمیونٹی کے موجودہ کوٹوں کو متاثر نہیں کریں گے ۔شندئے نے مزید کہا کہ مراٹھا کوٹہ کا مسئلہ کئی دہائیوں سے زیر التوا ہے اور انہیں ریزرویشن دینے سے انکار کیا گیا حالانکہ وہ ایک پسماندہ کمیونٹی ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہیں کہ انہیں کوٹہ ملے ۔بی جے پی کے دیگر اراکین نے ایوان کے اندر اور باہر الزام لگایا ہے کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) کے سپریمو شرد پوار مبینہ طور پر مراٹھا احتجاجی مہم کے پیچھے تھے اور یہاں تک کہ اس دوران منعقد ہونے والے احتجاج، جلوسوں اور ریلیوں کی بھی انہوں نے مالی اعانت کی تھی اپوزیشن مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے )، خاص طور پر این سی پی (ایس پی) نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے یہ جاننے کا مطالبہ کیا کہ جارنگے پاٹل کو ‘سیاسی’ پیادہ بنا دیا ہے ۔