سائبر حملے کے بعد جاپان ایئر لائنز کا سسٹم معمول پر آگیا
ٹوکیو : جاپان ایئرلائنز نے کہا ہے کہ اْس کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث اندرون ملک اور بین الاقوامی پروازوں میں تاخیر ہوئی۔ ایئرلائنز نے کہا کہ سائبر حملہ مقامی وقت صبح 7:30بجے شروع ہوا اور کمپنی کے اندرونی اور بیرونی نظام کو متاثر کیا۔ایئرلائنز کمپنی نے کہا کہ اس نے ایک راؤٹر کو عارضی طور پر بند کر دیا جو سسٹم میں خرابی کا باعث بن رہا تھا اور جمعرات کو روانہ ہونے والی پروازوں کے ٹکٹوں کی فروخت بھی معطل کر دی تھی۔ جاپان کی دوسری بڑی ایئرلائنز کمپنی آل نیپون ایئرویز کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اْن کی کمپنی نے اپنے سسٹمز پر حملے کے کوئی آثار نہیں دیکھے۔رواں ہفتہ کے شروع میں امریکن ایئرلائنز نے ایک گھنٹے کے لیے تمام پروازوں کو مختصر طور پر گراؤنڈ کیا جب اس کے نیٹ ورک ہارڈویئر میں شامل تکنیکی خرابی پیدا ہوئی۔ اس معمولی خرابی کے باعث کرسمس کے موقع پر ہزاروں افراد کو سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔سائبر حملے موجودہ جدید دنیا میں اب معمول بنتے جا رہے ہیں اور عالمی طاقتوں کے زیرِاثر ہیکرز یہ کام کرتے ہیں۔ ماضی قریب میں امریکہ، برطانیہ سمیت مختلف ممالک کو ان حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔دو برس قبل امریکہ کے متعدد بڑے ایئرپورٹس کو سائبر حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کی ویب سائٹس ڈاؤن ہو گئی تھیں۔بعدازاںجاپان میں سائبر حملے کے بعد جاپانی ایئر لائنز کا سسٹم معمول پر آ گیا، جس کے بعد مسافروں کو ٹکٹ فروخت کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔غیرملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز جاپان میں سائبر حملے کے بعد جاپانی ایئر لائن کے ٹکٹوں کی فروخت روک دی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق جاپان میں سائبر حملے کے بعد اندرون اور بیرونِ ملک پروازوں میں تاخیر ہوئی تھی۔جاپانی ایئر لائنز کے ترجمان کے مطابق سائبرحملے میں صارفین کا کوئی ڈیٹا لیک نہیں ہوا جبکہ کمپیوٹر وائرس سے بھی کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔