جاپان میں ‘ٹوئٹر کِلر‘ کی سزائے موت پر عمل آوری

   

ٹوکیو۔ 27 جون (ایجنسیز) جاپان میں نو افراد کو قتل کرنے والے ایک شخص کو موت کی سزا دے دی گئی ہے۔ 2022 کے بعد ملک میں پہلی بار موت کی سزا پر عمل درآمد ہوا ہے۔جاپان میں 2017 میں نو افراد کو قتل کرنے والے 30 سالہ قاتل تکاہیرو شیراشی کو موت کی سزا دے دی گئی ہے۔ اس سلسلہ وار قتل کے سبب ملک میں ہنگامہ مچ گیا تھا اور شیراشی کو اس وقت “ٹوئٹر کلر” کا نام دیا گیا تھا۔متعدد قتل کے واقعات کے بعد ملک میں یہ بحث تیز ہو گئی تھی کہ خودکشی سے متعلق آن لائن تبادلہ خیال آخر کیسے کیا جاتا ہے۔موت کی سزا پر عمل جمعہ کے روز ٹوکیو کے حراستی مرکز میں سخت رازداری کے تحت ہوا اور پھانسی مکمل ہونے تک اس بارے میں کسی بھی طرح کی معلومات ظاہر نہیں کی گئیں۔جاپان کے وزیر انصاف کیسوکے سوزوکی نے شیراشی کو پھانسی دینے کی اجازت دی تھی، جن کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ محتاط غور و فکر کے بعد کیا۔