جرمن انتخابات : دھمکی کے بعد شامی پناہ گزین دستبردار

   

برلن : طارق علاوس نے جرمن پارلیمان کیلئے انتخاب میں مقابلہ کرنے کا گذشتہ ماہ اعلان کر کے سنسنی پیدا کردی تھی ۔ اب ان کا کہنا ہے کہ نسل پرستی اور دھمکیوں کی وجہ سے انہیں اپنے ارادے پر نظر ثانی کرنی پڑی ہے ۔ طارق علاوس کہتے ہیں کہ ان کی امیدواری کے اعلان سے پناہ گزینوں کے مسائل تو اجاگر ہوئے ہیں لیکن منظر عام پر آجانے کی وجہ سے ان کیلئے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں ۔ دمشق میں پیدا ہونے والے شامی پناہ گزین اور انسانی حقوق کے کارکن 41سالہ طارق علاوس نے منگل کے روز اعلان کیا کہ نسلی حملوں اور انہیں موصول ہونے والی ذاتی دھمکیوں کی وجہ سے انہیں جرمن پارلیمان، بنڈس ٹاگ کے الیکشن میں امیدواری سے اپنا نام واپس لینا پڑرہا ہے ۔ جرمن انتخابات میں ان کی امیدواری کو تاریخی قرار دیا جارہا تھا ۔ طارق شام میں جاری جبراً فوری بھرتی سے بچنے کیلئے فرار ہوکر چھ برس قبل یورپ آئے تھے ۔