جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی

   

محمدمبشرالدین خرم
بیعت کرنی ہے یا جنگ یہ سوال کوئی نیانہیں ہے ‘ بدباطن جب یہ سوال کرے خواہ وہ اب کرے یا معرکۂ کربلا کے درمیان کرے تو جو حق پر ہوتے ہیں وہ جنگ کے لئے ہمیشہ آمادہ ہوتے ہیں۔چھوٹی سے باتوں سے پریشان ہونے والی امت ‘ لڑکھڑاتے ہوئے قدم اور بے چینی و بے یقینی کا شکار معاشرے کو کربلاء کے واقعہ سے درس حاصل کرنا چاہئے اور جن کی معرکۂ کربلا نے تربیت کی انہوں نے دنیا کو دکھا دیا کہ جب وقت کا ’یزید ‘ مقابلہ پر آجائے تو اس کے ساتھ موجود ظالم ’شمر‘ یا ابن ’زیاد‘ کی پرواہ نہیں کی جاتی بلکہ مقابلہ کیا جاتا ہے ۔امت کی امت سازی اور مظلومیت کا رونا رونے کے بجائے اسے اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ہو تو بس اس امت کو کربلاء میں کیا گیا صبر اور دی گئی قربانیوں کی یاد تازہ کرنی ہوگی۔ایران ۔ امریکہ کے درمیان ہوئے جنگ بندی کے معاہدہ نے دوبارہ امت کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر سیرت امام حسینؓ پر چلا جائے اور اپنی غریب الوطنی و مظلومیت کا مرثیہ پڑھنے کے بجائے جرأت کا مظاہرہ کیا جائے تو کتنے ہی طاقتور یزید اور ابن زیاد کیوں نہ ہوں سب کو جھکایا جاسکتا ہے۔امت کے نوجوانوں میں جب یہ احساس پیدا ہوجائے کہ اس ’جان کی کوئی بات نہیں ‘ یہ جان تو آنی جانی ہے۔کمزور اور خوف کے عالم میں جو زندگی گذارتے ہیں ان کا مقدر غلامی ہوجاتا ہے اور جو مقابلہ پر آمادہ رہتے ہیں وہ طاقتور ترین کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتے ہیں۔28 فروری کو جب ایران پر امریکہ اور اسرائیل نے اپنے دیگر حواریوں کی مدد سے ایران پر حملہ کرتے ہوئے ’’آیت اللہ خامنہ ای ‘‘ کو شہید کیا تو دنیا نے کہنا شروع کردیا تھا کہ ایران تباہ ہوجائے گا لیکن ’شیطان بزرگ‘ اور اس کے حواریوں کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ’آیت اللہ خامنہ ای‘ کی شہادت ایران کو کمزور نہیں کرے گی بلکہ ایرانیوں کے جذبہ ایثار و قربانی میں مزید اضافہ کا باعث بنے گی۔ ایران پر حملوں اور تہذیب کے خاتمہ کی بات کرنے والے ایران کی جرأت و ہمت کے کا آگے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوگئے بلکہ ایران نے بیک وقت 10 ممالک کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ ان میں سے کئی ممالک کو ’امریکہ و اسرائیل ‘ کے چنگل سے آزاد کروانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
ایران ۔امریکہ امن معاہدہ کے نکات کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگر خوف سے عاری ہوکر مقابلہ کیا جائے تو تعداد یا صلاحیت کوئی معنٰی نہیں رکھتی ۔ جنگوں کے بعد ہی قیام امن ہوتا ہے اور اگر جنگ کے دوران کوئی ایک فریق اپنے تنہاء پڑ جائے تو اس کی مدد کے لئے کوئی تو آتا ہے لیکن ایران کو سب نے تنہاء چھوڑ دیا تھا اس کے باوجود ایران نے جس دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا بلکہ اب بھی کر رہا ہے وہ قابل دید و عمل ہے۔ایران ۔ امریکہ نے معاہدہ پر دستخط تو کردیئے لیکن ’اسرائیل ‘ نے خود کو اس معاہدہ سے دور رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے لبنان کو نشانہ بنایا لیکن ’اسرائیل‘ کی اس شرانگیزی کے ساتھ ہی ’ایران ‘ نے اس بات کا اعلان کیا کہ اگر ’اسرائیل‘ لبنان پر حملہ جاری رکھتا ہے تو اسے ’امن معاہدہ‘ سے کوئی مطلب نہیں ہے اور وہ جنگ کے لئے تیار ہے۔ ایران نے نہ صرف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا بلکہ چند گھنٹے قبل ہوئے معاہدہ کے بعد ’آبنائے ہرمز‘ کی کشادگی کے فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے فوری طور پر اسے دوبارہ بند کردیا۔ امریکہ نے ایران پر عائد تحدیدات کے خاتمہ کے علاوہ تحدیدات عائد کئے جانے کے بعد قرق کئے گئے 24 بلین امریکی ڈالرس کی واپسی کے علاوہ جنگی نقصانات اور از سر نو تعمیرات کے لئے 300 بلین امریکی ڈالرس دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایران کی تہذیب مٹانے کا اعلان کرنے والے ’ڈونالڈ ٹرمپ‘ نے ایران کو پہنچائے گئے نقصانات کی پابجائی کے عمل کا آغاز کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ’سوپرپاؤر‘ نیوکلیئر ‘ فوجی طاقت‘ دولت یا فضائیہ اور بحریہ کے ذریعہ ہی جنگوں میں کامیابی نہیں ہوتی بلکہ جن کے پاس ’جگر‘ ہوتا ہے وہ ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ایران پر عائد تحدیدات کے خاتمہ کے بعد کئی ممالک نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط بحال کرنے کا نہ صرف اعلان کیا ہے بلکہ جس انداز میں تعلقات کو بحال کرنے کااعلان کیا ہے وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ممالک طاقتور ملک سے تعلقات استوار کرنے کو کس قدر بے چین و بے قرار تھے ۔امریکی تحدیدات برخواست ہونے اور ایران کے تیل کو عالمی بازار میں فروخت کرنے کی چھوٹ فراہم کئے جانے کے ساتھ ہی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے نتیجہ میں عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ شروع ہوا ہی تھا کہ دوبارہ ’آبنائے ہرمز‘ کے بند ہونے کی اطلاع نے تیل کی قیمتوں کو اچھال دیا اور حصص بازار کو گرادیا۔
ایران ۔امریکہ امن معاہدہ میں پڑوسی ملک پاکستان نے جس انداز میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور طویل مدتی مصالحت کے دوران جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جاتا رہا اس بات کو کوئی قبول کرے یا نہ کرے لیکن طویل مدت تک امریکی افواج و فوجی تنصیبات کے میز بان رہے قطر اور سعودی عرب وہ اس معاہدہ کی اہمیت جانتے ہیں اور وہ مستقبل میں پاکستان کے اس احسان کا بدلہ ضرور چکائیں گے۔ہندستان جو کہ یوکرین۔روس کے درمیان جاری جنگ کو رکوانے کے دعوے کرتا رہا ہے لیکن وہ جنگ اب بھی جاری ہے ‘ اس جنگ نے خطہ کی حالت غیر کی ہوئی ہے لیکن ایران۔امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے خاتمہ نے یہ ثابت کردیا کہ ثالثی اگرمستحکم اور مثبت طریقہ سے کی جائے تو ایسی صورت میں اس میں کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے۔ ایران۔امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی جنگ میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے علاوہ کئی فوجی جنرلوں کی شہادت بالخصوص ڈاکٹر علی لاری جانی کی شہادت نے ایران کو جتنا طاقتور آج بنایا ہے سابق میں ایران کبھی اس قدر طاقتور نہیں تھا ۔ مادر وطن کے لئے دی جانے والی ان قربانیوں نے مغربی وسطیٰ میں ایران کو ’سوپر پاؤر‘ کی حیثیت فراہم کردی ہے جس نے اپنی شرائط پر امریکہ کو جنگ بندی پر آمادہ کرلیا ہے۔ایران نے امریکہ کی دھمکیوں کے آگے سرنگوں ہونے کے بجائے اپنے اسلاف کی تاریخ کو دہراتے ہوئے قربانیوں کو ترجیح دی اور نہ صرف اپنے قائدین کی شہادت بلکہ معصوم اسکولی طالبات کی شہادت پر بھی مظلومیت کا رونا رونے کے بجائے دنیا کو ’شیطان بزرگ‘ کی ظالمانہ کاروائیوں سے واقف کرواتے ہوئے اس کے لئے دنیا کے ’امن پسند‘ اہل دل کے قلوب میں اس کے لئے نفرت پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایران ۔امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدہ سے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مظلوم کی حیثیت سے زندگی گذارنے والی اقوام کو درس حاصل کرتے ہوئے ظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ وہ ظلم کے خلاف نبرد آزما ہوتے ہوئے اپنی کامیابی کو یقینی بناسکیں۔ ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز اور ہاتھ دونوں کو جو غیبی مدد حاصل ہوتی ہے اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔دنیا کے کئی مسلم ممالک کو صہیونی طاقتوں نے اپنی سازشوں کے ذریعہ تباہ کردیا اور ان ممالک پر اپنے پروردہ عناصر کے ذریعہ حکومت کرتے ہوئے بے حیائی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا لیکن ایران میں وہ ناکام رہے۔
ظلم خواہ عالمی سطح پر ہویا قومی سطح پر کیا جائے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والوں کو ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ مکان پر بلڈوزر چلنے کے خوف سے جو احتجاج سے گریز کرتے ہیں وہ کیا اپنے خانوادے کو اجاڑیں گے حالانکہ امت کی بقاء اور امت کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے خانوادہ کو قربانی کے لئے پیش کرنے کی تعلیم معرکۂ کربلا دیتا ہے۔ معرکہ ٔ کربلا دراصل کوئی واقعہ نہیں ہے بلکہ امت کی تربیت کے لئے دی جانے والی قربانی کی وہ تاریخ ہے جو نواسۂ رسولﷺ اور ان کے افرادخانہ کے خون سے تحریر کی گئی ہے لیکن افسوس ہم جس دور میں زندگی گذار رہے ہیں اس دور میں نواسۂ رسول ﷺ کے نام لیوا تو بہت مل جائیں گے لیکن ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے زندگی گذارنے والوں کی تعداد بہت قلیل ہے۔ ملک بھر میں جہاں کہیں حسین ابن علیؓ کی تعلیمات کے مطابق زندگی گذارتے ہوئے جدوجہد کرنے والے موجود ہیں ان میں خوف پیدا کرنے کے لئے بھی طاقتیں سرگرم ہیں جو کہ دشمنان اسلام کے لئے دانستہ یا نادانستہ کام کر رہی ہیں۔ایران کے امن معاہدہ سے ہندستانی مسلمانوں کوبھی سبق حاصل کرنا چاہئے اور کسی بھی طرح کے مظالم سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہجومی تشدد کا شکار بننے والوں یا سرکاری دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کو تنہاء چھوڑنے کے بجائے ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ امریکہ و اسرائیل جیسے سفاک ممالک جو کہ خونریزی اور تباہی میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے جب وہ امن کی بات کرسکتے ہیں توایسی صورت میں ہمیں اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم کس غفلت کا شکار ہے جو اسرائیل کے تربیت یافتہ ہم پر بھاری پڑنے کے دعوے کر رہے ہیں اور یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اس سرزمین سے مسلمانوں کو مٹادیں گے جس سرزمین پر نہ صرف اولیائے اللہ نے بلکہ اصحاب رسولﷺ نے دین ’اسلام‘ کے پیام کو عام کرتے ہوئے دعوت کے کام انجام دیئے اور دین کی حقانیت ہندستانیوں کے دلوں تک پہنچائی ۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ علی خامنہ ای نے امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدہ پر جس طرح کا ردعمل ظاہر کیا ہے، وہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہوں نے اپنے پیام میں واضح طور پر یہ کہا کہ اصولی طور پر ان کی رائے معاہدہ سے مختلف تھی لیکن سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل نے جب انہیں یقین دہانی کروائی کہ ایرانی اقوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا تو اس معاہدہ کیلئے آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی فریق حد سے زیادہ مطالبہ کرتا ہے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا جائے گا بلکہ ایرانی عوام ایک باوقار قوم ہے جو سر جھکانے سے زیادہ سر کٹانے پر یقین رکھتی ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت کے متعلق مجتبیٰ خامنہ ای کے موقف نے نہ صرف امریکہ بلکہ ان حلیف ممالک کے دلوں میں بھی ایران کا خوف پیدا کردیا ہے جو امریکہ کو سب سے زیادہ طاقتور تصور کیا کرتے تھے۔