رویندرا بھارتی میں اعضاء عطیہ دہندگان کو تہنیت، وزیرصحت ہریش راؤ کا خطاب
حیدرآباد ۔ 23 اپریل (سیاست نیوز) ریاستی وزیرصحت ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ جسمانی اعضاء کا عطیہ دیتے ہوئے دوسروں کو زندگی عطا کرنا بہت بڑا قابل قدر اقدام ہے۔ رویندرا بھارتی میں جیون دان کے زیراہتمام ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں اعضاء عطیہ دینے والوں کو تہنیت پیش کی گئی۔ اس پروگرام میں ریاستی وزراء محمد محمود علی، ٹی سرینواس یادو کے علاوہ دوسروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہریش راؤ نے کہاکہ سال 2020ء کے دوران 85 خاندانوں نے اعضاء کا عطیہ دیا ہے۔ اپنوں کو کھونا ہر ایک کیلئے تکلیف دہ ہوتا ہے مگر اعضاء عطیہ دینے کے فیصلے ناصرف دوسروں کو نئی زندگی فراہم کرتے ہیں بلکہ دوسروں کیلئے مثالی تحریک بن جاتی ہے۔ وزیرصحت نے کہا کہ جن کے برین ڈیڈ ہوجاتے ہیں ان کے اعضاء عطیہ دینا ہی بہتر ہے۔ اعضاء کے عطیہ دینے سے دیگر چار افراد کو زندگی فراہم کی جاسکتی ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو مرنے کے بعد بھی لوگوں کو نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ ملاسوراجیم کی نعش کو میڈیکل کالج کیلئے عطیہ دیا گیا ہے جب وہ زندہ تھی تب ہی اس کا فیصلہ کرچکی تھی۔ مرنے کے بعد اعضاء زمین میں دفن ہوجانے سے بہتر ہے۔ اس سے کسی کو زندگی مل سکے اور یہ بہت بڑا اقدام ہے۔ وزیرصحت نے کہا کہ اعضاء کا کئی لوگ بڑی بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ چند مریضوں کو چار تا پانچ سال تک انتظار کرنا پڑرہا ہے۔ گردہ کے عارضہ میں مبتلاء مریضوں کی قابل رحم حالت ہے۔ سرکاری ہاسپٹلس میں بھی اعضاء کی پیوندکاری کی جارہی ہے۔ ایسے مریضوں کیلئے آروگیہ شری کے تحت حکومت 10 لاکھ روپئے تک اخراجات برداشت کررہی ہے۔ن