جسٹس مدن بھیم راؤ لوکور برقی تحقیقاتی کمیشن کے نئے صدرنشین

   

ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اور ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج کو کئی شعبوں میں مہارت

حیدرآباد۔/30 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بھیم راؤ لوکور کو برقی تحقیقاتی کمیشن کا نیا صدرنشین مقرر کیا ہے۔ سابق بی آر ایس دور حکومت میں چھتیس گڑھ سے برقی خریدی معاہدہ اور یادادری و بھدرادری پاور پراجکٹس کی تعمیر میں بے قاعدگیوں کی جانچ کیلئے حکومت نے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔ کمیشن کے صدرنشین کے طور پر جسٹس ایل نرسمہا ریڈی کو مقرر کیا گیا تھا اور انہوں نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کی تھیں۔ بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر کو بھی جسٹس ایل نرسمہا ریڈی کمیشن نے نوٹس جاری کی اور کے سی آر کمیشن کے روبرو حاضر ہونے کے بجائے کمیشن کو کالعدم کرنے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔ ہائی کورٹ میں درخواست مسترد کئے جانے پر وہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے جہاں عدالت نے تلنگانہ حکومت کو جسٹس نرسمہا ریڈی کے بجائے نئے جج کے تقرر کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کے اجلاس پر کے سی آر کے وکلاء نے جسٹس نرسمہا ریڈی پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحقیقات کی تکمیل سے قبل ہی انہوں نے پریس کانفرنس کے ذریعہ کے سی آر کو ملزم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ سپریم کورٹ نے تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے حکومت سے استفسار کیا تھا کہ آیا وہ نئے جج کے تقرر کیلئے تیار ہیں۔ حکومت کے اثباتی ردعمل کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جسٹس نرسمہا ریڈی کو تبدیل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ حکومت نے جسٹس مدن بھیم راؤ لوکور کے نام کو منظوری دی ہے جو متحدہ آندھرا پردیش میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دی۔ جسٹس مدن بھیم راؤ لوکور نے 1977 میں دہلی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں وکیل کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ سیول، کریمنل، دستوری امور، ریوینیو جیسے شعبہ جات میں وہ ماہر تصور کئے جاتے ہیں۔ 14 جولائی 1998 کو انہیں ایڈیشنل سالیسٹر جنرل مقرر کیا گیا تھا۔19 فروری 1999 کو دہلی ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر کئے گئے اور اسی سال جولائی میں دہلی ہائی کورٹ کے مستقل جج کے طور پر تقرر عمل میں آیا۔13 فروری 2010 سے 21 مئی تک وہ دہلی ہائی کورٹ کے عبوری چیف جسٹس رہے۔ وہ 4 جون 2012 کو سپریم کورٹ کے جج مقرر کئے گئے۔ جسٹس لوکور 15 نومبر 2011 تا 3 جون 2012 آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ پر فائز رہے۔ عدلیہ میں اصلاحات، کمپیوٹرائزیشن، جوڈیشیل ایجوکیشن، لیگل ایڈ، کمسن بچوں کو انصاف کی فراہمی اور عدالت کے باہر تنازعات کی یکسوئی میں وہ مہارت رکھتے ہیں۔ جسٹس لوکور سپریم کورٹ کی ای کمیٹی کے انچارج رہ چکے ہیں۔ جسٹس لوکور مختلف قوانین کو وضع کرنے سے متعلق کمیٹیوں میں شامل رہے۔1