حیدرآباد۔/22 جنوری، ( سیاست نیوز) کالیشورم پراجکٹ اور اس کے تحت بیاریجس کی تعمیر میں مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ کرنے والے جسٹس پی سی گھوش کمیشن نے آج بھی اوپن کورٹ کے تحت عہدیداروں کی جرح کی۔ آبپاشی امور کے ماہر وی پرکاش کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ انہوں نے سابق میں کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر کے مسئلہ پر کمیشن میں حلفنامہ داخل کیا تھا۔ جسٹس گھوش نے وی پرکاش سے مختلف سوالات کئے اور پراجکٹ رپورٹ کے بارے میں تفصیلات حاصل کی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ حلفنامہ میں کیا مکمل موقف پیش کردیا گیا ہے جس پر پرکاش نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ کمیشن کی مدد کیلئے انہوں نے حلفنامہ داخل کیا ہے۔ جسٹس گھوش نے کہا کہ کمیشن نے بیرونی افراد کی مدد طلب نہیں کی ہے۔ دستاویزی ثبوت اور ریکارڈ کے ذریعہ ہی کمیشن کی مدد کی جاسکتی ہے۔ جرح کے دوران ایک مرحلہ پر جسٹس گھوش نے وی پرکاش کو ٹوک دیا اور کہا کہ کمیشن کے روبرو سیاسی تقاریر نہ کریں۔ سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات ہوں تب ہی وضاحت کی جاسکتی ہے۔ آبپاشی کے ماہر پرکاش نے کالیشورم پراجکٹ کا دیگر آبپاشی پراجکٹ سے تقابل کیا۔ جسٹس گھوش نے میڈی گڈہ اور دیگر بیاریجس کی تعمیرات کے بارے میں بھی سوال کئے۔ کمیشن نے کہا کہ 2016 میں ہریش راؤ، ایٹالہ راجندر اور ٹی ناگیشور راؤ پر مشتمل سب کمیٹی نے پراجکٹ کی تجویز پیش کی تھی۔ کمیشن کے روبرو پیش ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وی پرکاش نے کہا کہ ماہرین کی کمیٹی نے میڈی گڈہ بیاریج کے خلاف کوئی رپورٹ پیش نہیں کی تھی۔1