روزہ کینسر ، موٹاپا ، شوگر اور مہلک امراض سے بچاؤ کا بہترین طریقہ
نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع نئی اسٹڈی میں اعتراف
ملک کے موجودہ حالات میں بھی روزوں کا اہتمام ضروری
یومیہ 16 تا 18 گھنٹے روزہ رکھنے سے آپ کئی ایک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور ساتھ ہی اس سے بڑھتی عمر کے اثرات بھی گھٹ جاتے ہیں ۔ بڑھاپا کا عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ کینسر اور موٹاپا کے امکانات بھی کم سے کم ہوجاتے ہیں ۔ اس کا انکشاف حال ہی میں منظر عام پر آئی ایک تازہ اسٹڈی میں کیا گیا ’وقفہ وقفہ سے روزہ رکھنے سے صحت ، بڑھتی عمر اور بیماریوں پر اثرات ‘ کے زیر عنوان اس اسٹیڈی کی اشاعت نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن (NEJM) میں عمل میں آئی ۔ جس میں یہ بھی بتایا گیا ۔ وقفہ وقفہ سے روزہ رکھنے سے بلڈ شوگر کی سطح میں پائی جانے والی بے قاعدگی دور ہوتی ہے اور اس میں بہتری پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ ذہنی دباؤ سے بھی چھٹکارا حاصل ہوتا ہے ۔ ایسے لوگ جن کے جسم میں سوجن اور سوزش پائی جاتی ہے ۔ روزوں کے اہتمام سے وہ بھی دور ہوتی ہے ۔ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں بھی روزہ معاون ثابت ہوتے ہیں امراض قلب سے بھی انسان محفوظ رہتا ہے ۔ اس اسٹڈی سے جڑے ایک محققین مارک میاٹسن اور ریفائیل ڈی گیابو کے مطابق دن میں تین مرتبہ کھانا ہماری عادت بن گیا ہے ایک طرح سے یہ ہمارا کلچر بن گیا ہے اور کھانے پینے کی یہ عادت تبدیل کرنے کے بارے میں ڈاکٹر اور مریض بہت کم غور کریں گے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مارک میاٹسن جانس ہاپکنس میڈیسن امریکہ میں نیورو سائنٹسٹ ہیں جب کہ ریفائیل ڈی گیابو سے متعلق اسٹڈی کے سربراہ ہیں ۔ یہ نئی تحقیق دراصل ماضی میں کی گئی کئی ایک تحقیق کا ایک طرح سے جائزہ ہے ۔ جن میں پایا گیا تھا کہ روزوں کے اہتمام سے انسانی جسم کے خلیوں اور عضووں کے مجموعی کیمیائی عمل میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور توانائی کا ذریعہ گلوکوز پر مبنی توانائی سے چربی پر مبنی توانائی میں تبدیل ہوتا ہے ۔ جس سے صحت میں بہتری پیدا ہوسکتی ہے ۔ گلوکوز جو سادہ شکر کی ایک قسم ہے ۔ انسانوں میں توانائی کا اصل ذریعہ ہے ۔ لیکن روزہ کے دوران جگر توانائی حاصل کرنے Fatty Acids کو توڑ کر کیٹونس میں تبدیل کرتا ہے ۔ Ketones دراصل کیمیائی مادے ہوتے ہیں اور یہ مادہ جسم اس وقت بناتا ہے جب خون میں درکار انسولین نہیں ہوتی ۔ اس اسٹیڈی اور ماضی میں کی گئی اسٹیڈیز سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وقفہ وقفہ سے روزہ کا اہتمام کرنے سے موٹاپا ، شوگر ( ذیابیطس ) ، امراض قلب ، کینسر اور اعصابی و دماغی بیماریوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے ۔ محققین نے ہفتہ میں دو دن روزہ کا اہتمام کرنے کی سفارش کی ہے ۔ اگر ہر ہفتہ ایک یا اس سے زائد دن غذا کو 500 تا 700 کیلوریز تک محدود رکھا جاتا ہے تو جسم میں Key Tones کی سطح بڑھتی ہے ۔ بہر حال طبیب انسانیت اور ہمارے پیارے نبی ﷺ پیر اور جمعرات کو روزوں کا اہتمام کرتے ۔ آپ ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ روزہ رکھو صحت یاب ہوجاؤ گے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے اکثر جنہیں اللہ توفیق دے وہ پیارے نبی ﷺ کی اس سنت مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ چاق و چوبند رہتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں جاپان کے ڈاکٹر Yoshinori ohsumi جنہیں Mechanism for autophargy کے لیے 2016 میں طب کا نوبل انعام دیا گیا تھا اپنے اس باوقار انعام کے لیے روزہ کی خوبی پر ریسرچ کو ذمہ قرار دیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سال میں اگر کوئی انسان 20 تا 25 دن روزہ رکھتا ہے تو وہ کینسر جیسے مہلک مرض سے بھی بچ سکتا ہے ۔ بہر حال روزہ انسان کو جہاں کئی ایک جسمانی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے وہیں دنیاوی مصائب سے بھی بچاتا ہے اور بندہ کو اپنے رب سے قریب کرتا ہے ۔ آج ہمارے ملک میں حالات دگرگوں ہیں ظلم و جبر کا بازار گرم ہے ۔ ناانصافی و حق تلفی عام ہوگئی ہے ۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی شناخت کا مسئلہ پیدا ہوگیا ۔ ان حالات میں اگر روزوں کا اہتمام کیا جائے تو ان شاء اللہ خالق کائنات ہماری پریشانیوں کو دور کریں گے ۔۔