جموں سے تحدیدات برخاست ، کشمیر کے چند علاقوں میں برقرار

,

   

قومی اہمیت کے مسائل پر حقیر سیاست اور شراکت داری سے گریز کا نائب صدرجمہوریہ وینکیا نائیڈو کا مشورہ

سرینگر ۔ 14 اگسٹ ۔( سیاست ڈاٹ کام ) جموں میں تحدیدات مکمل طورپر برخواست کردی گئی ہیں جبکہ کشمیر کے چند علاقوں میں انھیں جزوی طورپر برخواست کیا گیا ہے اور چند دن تک یہ جاری رہیں گی ۔ جموں وکشمیر کے سینئر پولیس عہدیدار نے چہارشنبہ کے دن پرزور انداز میں کہاکہ صورتحال مکمل طورپر قابو میں ہے ۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل منیر خان نے کہا کہ سرینگر کے مختلف علاقوں میں اسے مقامی رنگ دیا جارہا ہے لیکن مقامی سطح پر بھی تحدیدات جاری رہیں گی ۔ انھوں نے کہاکہ کسی مقام پہ بھی شدید زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انھوں نے کہاکہ اس بات کی انتہائی کوشش کی جارہی ہے کہ کسی شہری کی ہلاکت نہ ہونے پائے ۔ انھوں نے کہاکہ جموں میں تحدیدات اس لئے برخواست کی گئی ہیں کیونکہ اسکول اور دیگر ادارے کارکرد ہیں۔ تحدیدات کشمیر کے ایک یا دو مقامات پر کچھ عرصہ کیلئے جاری رہیں گی ۔ اس سوال پر کہ کتنے لوگ حراست میں لئے گئے ہیں ؟ خان نے کہاکہ وہ افراد کے بارے میں بات نہیں کریں گے ۔ انھوں نے کہاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ اشرار پرامن ماحول کو مسموم نہ کرسکیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں انسدادِ اقدامات کرنے ہوں گے ۔ انھوں نے کہاکہ انتظامیہ اور پولیس کا مرکز توجہہ جمعرات کے دن کی یوم آزادی تقریبات ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ تقریبات کے پرامن انعقاد کے لئے تمام ضروری انتظامات کئے جاچکے ہیں ۔ ریاست گیر سطح پر پرنسپال سکریٹری روہت کنسل کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا گیا ۔ انھوں نے کہا کہ بحیثیت مجموعی ریاست کی صورتحال پرسکون ہے۔ مزید نرمی امتناعی احکام میں پیدا کی جائے گی اگر کثیرتعداد میں علاقوں بشمول سرینگر میں صورتحال مسلسل آج دوپہر دیر گئے تک پرامن رہے ۔ انھوں نے کہا کہ دیگر تمام محاذوں پر جیسے شہری سربراہی ، قومی شاہراہیں ، طیرانگاہیں ، طبی سہولتیں حسب معمول صورتحال برقرار رکھیں۔ مقامی عہدیدار پہلے کی طرح صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیںاور جب بھی ضروری ہو وہ نرمی دے رہے ہیں ۔ وادی کشمیر کی صورتحال کی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے خان نے کہاکہ تحدیدات بعض مقامات پر جاری رکھی جائیں گی کیونکہ یہ اس لئے نافذ کی گئی ہیں تاکہ بحیثیت مجموعی صورتحال کا کسی مخصوص علاقہ کی حد تک جائزہ لیا جاسکے ۔ انھوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ ضلع مجسٹریٹ اور ضلع سوپور کے عہدیدار صورتحال کا تخمینہ کررہے ہیں اور اُن اقدامات کا تعین کررہے ہیں جو صورتحال پرامن رکھنے کیلئے ضروری ہیں۔ چندی گڑھ سے موصولہ اطلاع کے بموجب نائب صدرجمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی موقف دینا درست سمت میں ایک قدم اُٹھانے کے مترادف ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں قومی مسائل پر وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ جانبداری ، شراکت داری اور حقیر سیاست قومی اہمیت کے مسائل پر نہیں کی جانی چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ خاص طورپر جانبداری سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ یہ وقت کا تقاضہ ہے ۔ نائب صدرجمہوریہ پہلی بائی رام جی داس ٹنڈن میموریل لکچر پنجاب یونیورسٹی میں دے رہے تھے ۔ ٹنڈن 1969-70 چیف منسٹر پنجاب رہ چکے ہیں اور انھیں جولائی 2014 ء میں گورنر چھتیس گڑھ مقرر کیا گیا تھا ۔ اُن کا انتقال گزشتہ سال 14 اگسٹ کو ہوا ۔ ریاست جموں و کشمیر کے خصوصی اختیارات جو دستور ہند کی دفعہ 370 کے تحت حاصل تھے ، برخواست کرنے کے بارے میں وینکیا نائیڈو نے کہاکہ پنجاب یونیورسٹی کے چانسلر کے بموجب اُنھیں معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ پورا ملک جشن منارہا ہے اور مرکز کے اس اقدام کی کھل کر تعریف کررہا ہے ۔ دفعہ 370 کی برخواستگی درست سمت میں مرکزی حکومت کا ایک قدم ہے ۔ نائب صدر نے اپنی باتوں کو اُجاگر کرنے کیلئے مختلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین کے 1963-64 میں جاری کردہ بیانات کا حوالہ دیا جو جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کرنا چاہتے تھے ۔