جموں و کشمیر میں 3 سرکاری ملازمین کو برطرف کردیا گیا

   

سرینگر:جموں و کشمیر کے ایل جی منوج سنہا نے حال ہی میں 3 سرکاری ملازمین کو برخاست کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان میں پولیس کانسٹیبل فردوس احمد بھٹ، استاد محمد اشرف بھٹ اور محکمہ جنگلات کے اردلی نثار احمد خان شامل ہیں۔ تینوں ہی اس وقت دہشت گردی سے متعلق الگ الگ معاملوں میں قید میں ہیں۔مبینہ طور پر ہندوستان مخالف سرگرمیوں میں شامل ملازمین پر اپنی کارروائی جاری رکھتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ نے دہشت گردی سے متعلق معاملوں سے جڑے ان تینوں ملازمین کی خدمات ختم کرنے کا یہ قدم اٹھایا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جن تین ملازمین پر ایل جی نے کارروائی کی ہے وہ سبھی جموں و کشمیر کی سیکورٹی کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں جیلوں میں بند ہیں۔

پولیس کانسٹیبل فردوس احمد بھٹ کو مبینہ طور پر علاقے میں فعال دہشت گرد گروپوں کے ساتھ مبینہ روابط کے سبب گرفتار کیا گیا تھا۔محمد اشرف بھٹ جو ایک ٹیچر ہیں ان پر طلبا کو ممنوعہ تنظیموں کے ساتھ تعلقات بنائے رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ محکمہ جنگلات کے نثار احمد خان پر مبینہ طور پر کشمیر کے جنگلاتی علاقوں میں دہشت گردوں کی آمد و رفت میں مدد کرنے کا الزام ہے۔