حیدرآباد۔2۔جون۔(سیاست نیوز) صدرپردیش کانگریس مسٹر مہیش کمار گوڑ نے جنا سینا پارٹی کی تلنگانہ میں سرگرمیوں کی کوشش پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پون کلیان کی جڑیں آندھراسے ہیں اور وہ آندھرائی پارٹی کو تلنگانہ میں قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مہیش کمار گوڑنے پون کلیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کس کے اشاروں پر تلنگانہ میں سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں تلنگانہ عوام اس بات سے اچھی طرح سے واقف ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ’جنا سینا پارٹی ‘ کا قیام آندھراپردیش میں عمل میں لایا گیا ہے اور وہ آندھراپردیش میں سرگرم ہیں لیکن اب تلنگانہ سے محبت کا اظہار کرنے لگے ہیںجو کہ فرضی ہے۔صدرپردیش کانگریس نے کہا کہ جن کی جڑیں آندھرائی ہوں وہ تلنگانہ عوام سے انصاف نہیں کرسکتے ۔ انہو ںنے یوم تاسیس تلنگانہ کے موقع پر گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی ’پروفیسر جئے شنکر ‘ کا احترام کرتی ہے کیونکہ پروفیسر جئے شنکر نے ہی تلنگانہ پر تلنگانہ عوام کی حکمرانی کا نظریہ پیش کرتے ہوئے علحدہ ریاست کی تحریک میں شدت پیدا کی تھی۔مسٹر مہیش کمار گوڑ نے بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ساز باز کا الزام عائد کرتے ہوئے آبپاشی پراجکٹس میں تبدیلی کے ذریعہ لاکھوں کروڑ روپئے کی عوامی دولت لوٹنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے استفسار کیا کہ پڑوسی ریاست میں ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز شخص کی سیاسی جماعت ’جنا سینا ‘ پر تلنگانہ عوام کس طرح اعتماد کرسکتے ہیں!انہوں نے پون کلیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آندھرائی عوام کے لیڈر ہیں وہ آندھراکے عوام کی فکر کریں اور تلنگانہ میں ’بے نامی ‘ پتہ کے ذریعہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کا سلسلہ فوری بند کریں۔انہوں نے کہا کہ وہ پون کلیان کا احترام کرتے ہیں لیکن بہ حیثیت اداکار ان کی عزت ہے اور وہ تلگو فلم صنعت میں اپنے وقار کو برقرار رکھیں ۔مہیش کمار گوڑ نے سربراہ جنا سینا پارٹی کو تلنگانہ میں سیاسی سرگرمیوں میں وقت ضائع نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ عوام ان کی تلنگانہ عوام سے محبت کی اداکاری پر اعتماد نہیں کریں گے اور نہ ہی تلنگانہ میں ’جنا سینا پارٹی‘ کو قبول کیا جائے گا اسی لئے انہیں ان سرگرمیوں سے گریز کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ 3